مقامی خبریں

مظفر پور: پرساد ہسپتال کے آئی سی یو میں خوفناک آتشزدگی، 5 افراد کی موت سے کہرام

مظفر پور کے پرساد ہسپتال میں قیامت خیز منظر

مظفر پور شہر اس وقت سوگ میں ڈوب گیا جب پرساد ہسپتال کی پانچویں منزل پر واقع آئی سی یو (ICU) میں اچانک آگ بھڑک اٹھی۔ شارٹ سرکٹ کے باعث شروع ہونے والی اس آگ نے دیکھتے ہی دیکھتے ہولناک شکل اختیار کر لی، جس کے نتیجے میں پانچ مریضوں کی موت کی تصدیق ہوئی ہے، جبکہ 20 سے زائد افراد شدید جھلس گئے ہیں۔

واقعہ کی تفصیلات

جمعرات کے روز ہسپتال میں معمول کی سرگرمیاں جاری تھیں کہ اچانک پانچویں منزل سے دھواں اٹھتا دکھائی دیا۔ آئی سی یو میں موجود مریضوں اور ان کے لواحقین میں افراتفری مچ گئی۔ آگ کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ ہسپتال کے عملے کے لیے صورتحال پر قابو پانا ناممکن ہو گیا تھا۔ جائے وقوعہ سے ملنے والی تصاویر اور ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ہسپتال کے بیڈ اور طبی آلات مکمل طور پر جل کر راکھ ہو چکے ہیں، جس سے حادثے کی سنگینی کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

امدادی کارروائیاں اور انتظامیہ کا ردعمل

اطلاع ملتے ہی فائر بریگیڈ کی متعدد گاڑیاں موقع پر پہنچ گئیں اور آگ بجھانے کا کام شروع کیا۔ ضلعی انتظامیہ کی جانب سے فوری ایکشن لیتے ہوئے ضلع مجسٹریٹ (DM) نے خود جائے وقوعہ کا دورہ کیا اور جاری امدادی کارروائیوں کا جائزہ لیا۔ فائر فائٹرز نے بڑی مشقت کے بعد آگ پر قابو پایا، تاہم اس دوران ہسپتال کے اندر موجود مریضوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

غم و غصے کی فضا

اس المناک واقعے کے بعد ہسپتال کے باہر لواحقین کا ہجوم جمع ہو گیا، جہاں ہر طرف چیخ و پکار اور رونا دھونا سنائی دے رہا تھا۔ اپنے پیاروں کو کھونے والے خاندانوں کا حال انتہائی افسوسناک ہے۔ مقامی لوگ بھی بڑی تعداد میں ہسپتال پہنچے تاکہ امدادی کاموں میں مدد کر سکیں۔ فی الحال انتظامیہ کی جانب سے زخمیوں کو قریبی ہسپتالوں میں منتقل کر کے ان کا علاج یقینی بنایا جا رہا ہے۔

یہ واقعہ ہسپتالوں میں آگ سے بچاؤ کے حفاظتی انتظامات پر ایک بڑا سوالیہ نشان چھوڑ گیا ہے۔ حکام نے واقعے کی تحقیقات کا حکم دے دیا ہے تاکہ اس بات کا تعین کیا جا سکے کہ آیا ہسپتال میں آگ بجھانے کے آلات فعال تھے یا نہیں۔


دستبرداری: یہ خبر دستیاب مقامی ذرائع کی بنیاد پر مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے تیار کی گئی ہے۔ AI سے غلطیاں ممکن ہیں اور اس مواد کی صحت یا اصلیت کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ TheAinak صرف معلومات کو یکجا کرتا ہے اور اس کے مواد کا ذمہ دار نہیں ہے۔ قارئین سے گزارش ہے کہ کسی بھی معلومات پر بھروسہ کرنے یا اس پر عمل کرنے سے پہلے اس کی آزادانہ طور پر تصدیق ضرور کر لیں۔

😃+

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button