مقامی خبریں

مظفرپور: 500 سے زائد اساتذہ تنخواہ سے محروم، محکمہ تعلیم کے ریکارڈ میں ‘غائب’

بغیر آسامی کے تعیناتی: اساتذہ کی مشکلات میں اضافہ

مظفرپور کے سرکاری اسکولوں میں تعینات 500 سے زائد اساتذہ گزشتہ چار ماہ سے شدید مالی بحران کا شکار ہیں۔ ان اساتذہ کی بنیادی مشکل یہ ہے کہ وہ اسکولوں میں اپنی خدمات تو انجام دے رہے ہیں، لیکن محکمہ تعلیم کے آن لائن ریکارڈ یعنی ایچ آر ایم ایس (HRMS) میں ان کا کوئی وجود نہیں ہے۔ اس تکنیکی خرابی کے باعث نہ صرف ان کی تنخواہیں رکی ہوئی ہیں بلکہ ان کی آن بورڈنگ کا عمل بھی تعطل کا شکار ہے۔

آن بورڈنگ میں رکاوٹ کی اصل وجہ

محکمہ تعلیم کے حکام کے مطابق، یہ صورتحال اس وقت پیدا ہوئی جب سکھشمتہ امتحان پاس کرنے والے اساتذہ کو ‘نوجیت’ سے ‘وشیش’ (مخصوص) اساتذہ کے زمرے میں منتقل کیا گیا۔ ایچ آر ایم ایس پورٹل پر ان اساتذہ کے لیے مطلوبہ آسامیاں (Vacancies) پہلے سے تخلیق نہیں کی گئی تھیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ پورٹل پر آسامیاں تخلیق کرنے کا عمل پہلے دو مراحل کے امتحانات کے اعداد و شمار پر مبنی تھا، لیکن تیسرے اور چوتھے مرحلے کے لیے یہ عمل مکمل نہیں ہو سکا اور اب پورٹل لاک ہو چکا ہے۔

اساتذہ کی پریشانی اور انتظامیہ کی بے بسی

متاثرہ اساتذہ نے جب ‘سہیوگ پورٹل’ کے ذریعے اپنی شکایت درج کرائی تو انہیں جواب ملا کہ جب تک سسٹم میں آسامیاں خالی نہیں دکھائی جائیں گی، تب تک آن بورڈنگ ممکن نہیں ہے۔ اس جواب نے اساتذہ کی مایوسی میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ دوسری جانب، ضلعی سطح کے افسران بھی اس صورتحال پر پریشان ہیں کیونکہ ان کے پاس سسٹم کی خرابی کو درست کرنے کا کوئی فوری اختیار نہیں ہے۔

  • چار ماہ سے تنخواہ کی عدم ادائیگی سے اساتذہ کے گھروں میں معاشی بحران۔
  • ایچ آر ایم ایس پورٹل پر آسامیاں تخلیق نہ ہونے سے آن بورڈنگ کا عمل رکا ہوا۔
  • محکمہ تعلیم کی جانب سے تاحال کوئی متبادل حل پیش نہیں کیا گیا۔

یہ معاملہ صرف مظفرپور تک محدود نہیں ہے بلکہ ریاست کے دیگر اضلاع میں بھی اساتذہ اسی طرح کی تکنیکی پیچیدگیوں کا سامنا کر رہے ہیں۔ اساتذہ تنظیموں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر پورٹل کو اپ ڈیٹ کرے تاکہ ان اساتذہ کو ان کا جائز حق مل سکے اور وہ سکون کے ساتھ تدریسی فرائض انجام دے سکیں۔


دستبرداری: یہ خبر دستیاب مقامی ذرائع کی بنیاد پر مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے تیار کی گئی ہے۔ AI سے غلطیاں ممکن ہیں اور اس مواد کی صحت یا اصلیت کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ TheAinak صرف معلومات کو یکجا کرتا ہے اور اس کے مواد کا ذمہ دار نہیں ہے۔ قارئین سے گزارش ہے کہ کسی بھی معلومات پر بھروسہ کرنے یا اس پر عمل کرنے سے پہلے اس کی آزادانہ طور پر تصدیق ضرور کر لیں۔

😃+

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button