مقامی خبریں

مظفرپور ہسپتال آتشزدگی: ڈاکٹر اور انتظامیہ کے دو افسران گرفتار، جانچ کا دائرہ وسیع

مظفرپور میں ہسپتال سانحہ: انتظامیہ کی بڑی کارروائی

مظفرپور کے ایک نجی ہسپتال میں پیش آئے المناک آتشزدگی کے واقعے کے بعد پولیس نے سخت ایکشن لیتے ہوئے تین اہم ذمہ داران کو گرفتار کر لیا ہے۔ گزشتہ جمعرات کی صبح آئی سی یو میں لگی آگ کے نتیجے میں چھ مریضوں کی موت ہو گئی تھی، جس کے بعد سے پورے شہر میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی تھی۔

گرفتاریاں اور قانونی کارروائی

سٹی ایس پی محب اللہ انصاری نے تصدیق کی ہے کہ اس معاملے میں ڈاکٹر پنکج، ہسپتال کے ایڈمن مینیجر راجکمار اور مینٹیننس مینیجر اجیت کمار کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔ ان افراد کو سب ڈویژنل فائر آفیسر کی جانب سے درج کرائی گئی شکایت کی بنیاد پر گرفتار کیا گیا ہے، اور انہیں عدالتی تحویل میں بھیجا جا رہا ہے۔ ابتدائی تحقیقات میں شارٹ سرکٹ کو اس تباہ کن آگ کی وجہ قرار دیا گیا ہے۔

ہسپتال انتظامیہ پر سوالات

پولیس اب اس معاملے کی گہرائی سے تفتیش کر رہی ہے۔ تفتیشی ٹیم اس بات کا جائزہ لے رہی ہے کہ آیا ہسپتال کی عمارت کی تعمیر میں حفاظتی قوانین کی خلاف ورزی تو نہیں کی گئی تھی۔ اس کے علاوہ، فائر آڈٹ کے ریکارڈ کی بھی جانچ کی جا رہی ہے تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ کیا ہسپتال میں آگ بجھانے کے انتظامات ضوابط کے مطابق تھے یا نہیں۔ سٹی ایس پی نے واضح کیا ہے کہ اگر تحقیقات میں ہسپتال کے ڈائریکٹر یا مالکان کی لاپرواہی ثابت ہوئی تو ان کے خلاف بھی سخت قانونی کارروائی کی جائے گی اور انہیں گرفتار کیا جا سکتا ہے۔

متاثرین کی حالت

اس حادثے میں زخمی ہونے والے دیگر مریضوں کا علاج شہر کے مختلف ہسپتالوں میں جاری ہے۔ شدید زخمیوں میں سے تین مریضوں کو پٹنہ کے میڈانتا ہسپتال میں منتقل کیا گیا ہے، جہاں ان کی حالت پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے۔ ریاستی وزیر صحت نے بھی ہسپتال کا دورہ کر کے زخمیوں کی عیادت کی اور طبی سہولیات کا جائزہ لیا۔ یہ واقعہ طبی مراکز میں حفاظتی انتظامات پر ایک بڑا سوالیہ نشان کھڑا کر گیا ہے، اور عوام اب ذمہ داران کے خلاف سخت ترین سزا کا مطالبہ کر رہے ہیں۔


دستبرداری: یہ خبر دستیاب مقامی ذرائع کی بنیاد پر مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے تیار کی گئی ہے۔ AI سے غلطیاں ممکن ہیں اور اس مواد کی صحت یا اصلیت کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ TheAinak صرف معلومات کو یکجا کرتا ہے اور اس کے مواد کا ذمہ دار نہیں ہے۔ قارئین سے گزارش ہے کہ کسی بھی معلومات پر بھروسہ کرنے یا اس پر عمل کرنے سے پہلے اس کی آزادانہ طور پر تصدیق ضرور کر لیں۔

😃+

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button