مظفرپور کے پرساد ہسپتال میں آتشزدگی: میناپور کے رہائشی کی جان گئی، لواحقین کا شدید احتجاج
مظفرپور کے برہم پورہ میں واقع پرساد ہسپتال میں لگنے والی ہولناک آگ نے میناپور بلاک کے رام پور ہری تھانہ علاقہ کے گاؤں گوریگاما کے 76 سالہ کرشن نندن سنگھ کی جان لے لی۔ اس المناک حادثے کی خبر ملتے ہی گاؤں اور خاندان میں سوگ کی لہر دوڑ گئی اور ہر طرف غم و غصے کا ماحول چھا گیا۔
متوفی کے بیٹے انیل سنگھ نے بتایا کہ ان کے والد کو سینے اور پیٹ سے متعلق بیماریوں کے علاج کے لیے 22 مئی کو پرساد ہسپتال میں داخل کرایا گیا تھا۔ ابتدائی طور پر انہیں ہسپتال کی پانچویں منزل پر کمرہ نمبر 307 میں رکھا گیا تھا۔ تاہم، ان کی بگڑتی ہوئی حالت کے پیش نظر، انہیں بعد میں آئی سی یو میں منتقل کر دیا گیا تھا۔
انیل سنگھ کے مطابق، حادثے کی صبح ہسپتال کی ایک نرس نے انہیں آئی سی یو میں آگ لگنے کی اطلاع دی۔ یہ خبر سنتے ہی وہ فوری طور پر ہسپتال پہنچے، جہاں ہر طرف دھواں پھیلا ہوا تھا اور افراتفری کا عالم تھا۔ انہوں نے ہسپتال انتظامیہ پر سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے کہا کہ انہیں واقعے کے بارے میں کوئی واضح معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔
کچھ دیر بعد، پولیس انتظامیہ نے لواحقین کو شری کرشن میڈیکل کالج اور ہسپتال (ایس کے ایم سی ایچ) جانے کو کہا۔ وہاں پہنچنے پر انہیں کرشن نندن سنگھ کی لاش ملی۔ لاش کی شناخت ہوتے ہی خاندان میں کہرام مچ گیا اور غم کا پہاڑ ٹوٹ پڑا۔
متوفی کے بیٹے انیل سنگھ نے ہسپتال انتظامیہ پر شدید لاپرواہی کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ اگر حفاظتی انتظامات بہتر ہوتے تو اس طرح کا دلخراش واقعہ پیش نہ آتا۔ انہوں نے پورے معاملے کی غیر جانبدارانہ اور گہری تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے اور ذمہ داران کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ اس واقعے کے بعد مقامی لوگوں اور لواحقین میں شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے اور وہ انصاف کے منتظر ہیں۔
دستبرداری: یہ خبر دستیاب مقامی ذرائع کی بنیاد پر مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے تیار کی گئی ہے۔ AI سے غلطیاں ممکن ہیں اور اس مواد کی صحت یا اصلیت کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ TheAinak صرف معلومات کو یکجا کرتا ہے اور اس کے مواد کا ذمہ دار نہیں ہے۔ قارئین سے گزارش ہے کہ کسی بھی معلومات پر بھروسہ کرنے یا اس پر عمل کرنے سے پہلے اس کی آزادانہ طور پر تصدیق ضرور کر لیں۔
