مقامی خبریں

مظفرپور کے پرساد اسپتال میں آتشزدگی: انتظامیہ کے خلاف ایف آئی آر کا حکم، 5 ہلاک

مظفرپور: بہار کے مظفرپور میں واقع پرساد اسپتال میں جمعرات کی صبح سویرے پیش آنے والے ہولناک آتشزدگی کے واقعے کے بعد انتظامیہ نے سخت کارروائی کا حکم دے دیا ہے۔ اس حادثے میں اب تک 5 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہوئی ہے جبکہ تقریباً ڈیڑھ درجن افراد زخمی ہوئے ہیں۔

تحقیقات کا آغاز اور ایف آئی آر کا حکم

ترہت کے کمشنر گرور دیال سنگھ نے پرساد اسپتال کی انتظامیہ کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کا حکم جاری کیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ واقعے کی گہرائی سے تحقیقات کی جا رہی ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ رہائشی علاقے میں پانچ منزلہ عمارت پر آئی سی یو بنانے کے لیے عمارت کے قواعد و ضوابط (بلڈنگ بائی لاز) کی پابندی کی گئی تھی یا نہیں، اور آگ سے بچاؤ کے لیے کیا انتظامات کیے گئے تھے۔ کمشنر نے مزید کہا کہ اگر تحقیقات میں اسپتال انتظامیہ قصوروار پائی گئی تو مزید سخت کارروائی کی جائے گی۔ اسپتال کے سی سی ٹی وی فوٹیج کو بھی تحقیقات کے لیے حاصل کر لیا گیا ہے تاکہ معاملے کی مکمل وضاحت ہو سکے۔

حادثے کی تفصیلات اور متاثرین

یہ دلخراش واقعہ جمعرات کی صبح برہم پورہ تھانہ علاقے میں واقع پرساد اسپتال کے آئی سی یو میں شارٹ سرکٹ کے باعث پیش آیا۔ آگ لگنے کے بعد اسپتال میں افراتفری مچ گئی اور انتظامیہ نے فوری طور پر مریضوں کو آئی سی یو سے باہر نکالنا شروع کیا۔ ضلع انتظامیہ کے مطابق، حادثے کے وقت آئی سی یو میں 15 مریض داخل تھے، جن میں سے 5 کی موت ہو گئی ہے۔ مزید 6 مریضوں کو دیگر اسپتالوں میں منتقل کیا گیا ہے اور ان کا علاج جاری ہے۔ باقی مریضوں کی حالت کے بارے میں فی الحال کوئی واضح معلومات نہیں مل سکی ہے۔ مریضوں کے لواحقین کو اپنے پیاروں کو تلاش کرنے اور انہیں دوسرے اسپتالوں میں منتقل کرنے میں کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

وزیر اعلیٰ کا اظہارِ تعزیت اور امداد کا اعلان

بہار کے وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری نے اس افسوسناک حادثے پر گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے فوری طور پر مرنے والوں کے لواحقین کو 4-4 لاکھ روپے کی امدادی رقم فراہم کرنے کی ہدایت دی ہے۔ مقامی انتظامیہ پوری طرح مستعد ہے اور زخمیوں کے علاج کے لیے صدر اسپتالوں میں مناسب انتظامات کیے گئے ہیں۔ یہ واقعہ مظفرپور کے لیے ایک بڑا صدمہ ہے اور اس نے اسپتالوں میں حفاظتی انتظامات کی اہمیت کو اجاگر کیا ہے۔


دستبرداری: یہ خبر دستیاب مقامی ذرائع کی بنیاد پر مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے تیار کی گئی ہے۔ AI سے غلطیاں ممکن ہیں اور اس مواد کی صحت یا اصلیت کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ TheAinak صرف معلومات کو یکجا کرتا ہے اور اس کے مواد کا ذمہ دار نہیں ہے۔ قارئین سے گزارش ہے کہ کسی بھی معلومات پر بھروسہ کرنے یا اس پر عمل کرنے سے پہلے اس کی آزادانہ طور پر تصدیق ضرور کر لیں۔

😃+

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button