مظفرپور کے پتاہی ایئرپورٹ کا خواب شرمندہ تعبیر: 2 جولائی سے تعمیراتی کام کا آغاز
شمالی بہار کے لیے فضائی رابطے کا نیا دور
مظفرپور کے پتاہی ایئرپورٹ کو ‘کوڈ-بی’ (Code-B) معیار کے مطابق تیار کرنے کا عمل اب حتمی مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔ طویل عرصے سے زیر التوا اس منصوبے کے پہلے مرحلے کا باقاعدہ آغاز 2 جولائی 2026 سے ہونے جا رہا ہے۔ اس پروجیکٹ کے لیے 23.47 کروڑ روپے کی لاگت مختص کی گئی ہے، جس کے تحت ایئرپورٹ کے بنیادی ڈھانچے کو جدید خطوط پر استوار کیا جائے گا۔
تعمیراتی تفصیلات اور ٹائم لائن
منصوبے کے پہلے مرحلے کی ذمہ داری کانپور کی ایم ایچ پی ایل پرائیویٹ لمیٹڈ کو سونپی گئی ہے۔ ای پی سی (EPC) موڈ کے تحت ہونے والے اس کام میں درج ذیل اہم ڈھانچے شامل ہیں:
- جدید ٹرمینل بلڈنگ کی تعمیر۔
- ایئر ٹریفک کنٹرول (ATC) ٹاور کی تعمیر۔
- فائر اسٹیشن اور دیگر ضروری سہولیات کی فراہمی۔
تعمیراتی ایجنسی کو یہ کام 11 ماہ کی مقررہ مدت کے اندر مکمل کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ اگر کام طے شدہ رفتار سے آگے بڑھتا ہے، تو اگلے سال تک ایئرپورٹ کا بنیادی ڈھانچہ مکمل ہو جائے گا۔
برطانوی دور کے رن وے کی بحالی
اس ایئرپورٹ کی ایک منفرد پہچان اس کا برطانوی دور کا قدیم رن وے ہے۔ حکام نے اسے مکمل طور پر ہٹانے کے بجائے اس کی مرمت اور اسے جدید طیاروں کے اترنے کے قابل بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ رن وے کے اس استحکام کے لیے الگ سے ٹینڈر جاری کیے جانے کی توقع ہے، جو ایئرپورٹ کے تکنیکی معیار کو عالمی سطح پر لانے میں مددگار ثابت ہوگا۔
خطے کی معیشت پر اثرات
مظفرپور ایئرپورٹ کا فعال ہونا نہ صرف یہاں کے شہریوں بلکہ سیتامڑھی، شیوہر، مشرقی و مغربی چمپارن، ویشالی اور سمستی پور کے لاکھوں لوگوں کے لیے ایک بڑی سہولت ثابت ہوگا۔ اس سے نہ صرف مسافروں کو پٹنہ یا دربھنگہ پر انحصار نہیں کرنا پڑے گا، بلکہ خطے کی تجارت، تعلیم اور صحت کے شعبوں میں بھی انقلاب آئے گا۔ خاص طور پر مظفرپور کی مشہور لیچی اور دیگر زرعی مصنوعات کو ملک کے دیگر حصوں تک پہنچانے کے لیے فضائی راستہ ایک نئی معاشی شاہراہ ثابت ہوگا۔ یہ منصوبہ شمالی بہار کی ترقی کے لیے ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔
دستبرداری: یہ خبر دستیاب مقامی ذرائع کی بنیاد پر مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے تیار کی گئی ہے۔ AI سے غلطیاں ممکن ہیں اور اس مواد کی صحت یا اصلیت کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ TheAinak صرف معلومات کو یکجا کرتا ہے اور اس کے مواد کا ذمہ دار نہیں ہے۔ قارئین سے گزارش ہے کہ کسی بھی معلومات پر بھروسہ کرنے یا اس پر عمل کرنے سے پہلے اس کی آزادانہ طور پر تصدیق ضرور کر لیں۔