مقامی خبریں

مظفرپور کے ‘مینگو مین’ نے تیار کیا ایک کلو وزنی ‘ناگیندر بھوگ’ آم، ذائقہ اور حجم میں بے مثال

مظفرپور، بہار: مظفرپور کے معروف کسان اور ‘مینگو مین’ کے نام سے مشہور رام کشور سنگھ نے آم کی ایک نئی قسم تیار کی ہے جسے انہوں نے اپنے والد ناگیندر سنگھ کے نام پر ‘ناگیندر بھوگ’ کا نام دیا ہے۔ یہ خاص آم اپنے غیر معمولی ذائقے اور حیرت انگیز حجم کی وجہ سے اس وقت کافی چرچا میں ہے۔

رام کشور سنگھ کئی برسوں سے آم کی نئی اقسام پر تحقیق اور تجربات کر رہے ہیں۔ ان کی محنت اور لگن کا نتیجہ ہے کہ انہوں نے چار مختلف آم کی اقسام کو ملا کر ‘ناگیندر بھوگ’ کو پروان چڑھایا ہے۔ یہ آم کھٹے میٹھے ذائقے کا حامل ہے، جس میں گودا وافر مقدار میں ہوتا ہے اور گٹھلی انتہائی پتلی ہوتی ہے۔ اس کی یہ خصوصیات اسے دیگر اقسام سے ممتاز کرتی ہیں۔

ایک کلو وزنی اور ایک ہاتھ کے برابر لمبا آم

‘ناگیندر بھوگ’ کی سب سے نمایاں خصوصیت اس کا وزن اور حجم ہے۔ کسان رام کشور سنگھ کے مطابق، ایک ‘ناگیندر بھوگ’ آم کا وزن تقریباً ایک کلوگرام تک ہوتا ہے۔ اس کی لمبائی ایک ہاتھ کے پنجے کے برابر ہوتی ہے، جو اسے واقعی ایک منفرد اور بڑا پھل بناتی ہے۔ رام کشور سنگھ کا دعویٰ ہے کہ اس کا سائز اتنا بڑا ہے کہ ایک آم کھانے سے ہی پیٹ بھر سکتا ہے۔

دیر سے پکنے والی قسم اور عالمی مانگ

یہ آم دیر سے پکنے والی قسم سے تعلق رکھتا ہے، جو اس وقت تیار ہوتا ہے جب بازار میں آم کا عام سیزن ختم ہونے لگتا ہے۔ یہ خصوصیت اسے بازار میں ایک الگ پہچان دلاتی ہے اور اس کی مانگ میں اضافہ کرتی ہے۔ رام کشور سنگھ نے بتایا کہ ‘ناگیندر بھوگ’ کی مانگ نہ صرف ملک بھر سے بلکہ بیرون ملک سے بھی آ رہی ہے، جو اس کی مقبولیت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

موسم کی سختی کے باوجود اچھی قیمت

اگرچہ اس سال موسم آم کی فصل کے لیے زیادہ سازگار نہیں رہا، جس کی وجہ سے پیداوار میں کچھ کمی آئی ہے، اس کے باوجود ‘ناگیندر بھوگ’ بازار میں 100 سے 200 روپے فی کلوگرام تک فروخت ہو رہا ہے۔ یہ قیمت اس آم کی غیر معمولی خصوصیات اور مانگ کو ظاہر کرتی ہے۔

رام کشور سنگھ کے باغیچے میں ‘ریڈ رائل’ اور ‘میا زاکی’ سمیت 50 سے زائد اقسام کے آم موجود ہیں۔ اپنے انوکھے تجربات اور نئی اقسام تیار کرنے کی وجہ سے انہیں علاقے میں ‘مینگو مین’ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ ان کی یہ کاوشیں زرعی شعبے میں جدت اور نئے امکانات کی ایک روشن مثال ہیں۔


دستبرداری: یہ خبر دستیاب مقامی ذرائع کی بنیاد پر مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے تیار کی گئی ہے۔ AI سے غلطیاں ممکن ہیں اور اس مواد کی صحت یا اصلیت کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ TheAinak صرف معلومات کو یکجا کرتا ہے اور اس کے مواد کا ذمہ دار نہیں ہے۔ قارئین سے گزارش ہے کہ کسی بھی معلومات پر بھروسہ کرنے یا اس پر عمل کرنے سے پہلے اس کی آزادانہ طور پر تصدیق ضرور کر لیں۔

😃+

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button