مظفرپور کے سٹی پارک میں ریلز اور ‘فیس بک میٹ’ کے نام پر ہنگامہ آرائی، لڑکیوں کے سنگین الزامات
مظفرپور کے سٹی پارک میں تفریح کے نام پر ہونے والی سرگرمیاں اب تنازعات کا مرکز بن گئی ہیں۔ حال ہی میں دو الگ الگ واقعات نے پارک کی سیکیورٹی اور انتظامیہ پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ ایک واقعہ ریلز بنانے والے نوجوانوں کے ساتھ بدسلوکی اور مار پیٹ سے متعلق ہے، جبکہ دوسرا ‘فیس بک میٹ’ کے بہانے لڑکیوں کے ساتھ مبینہ دھوکہ دہی اور ہراسانی کا ہے۔
اتوار کو پیش آنے والے پہلے واقعے میں، کچھ نوجوان لڑکے اور لڑکیاں سٹی پارک میں ریلز بنا رہے تھے۔ اسی دوران ایک مقامی نوجوان اپنے ساتھیوں کے ہمراہ وہاں پہنچا اور ریلز بنانے والوں کے ساتھ بدتمیزی اور گالی گلوچ شروع کر دی۔ متاثرین کا الزام ہے کہ جب انہوں نے اس رویے کی مخالفت کی تو انہیں مارا پیٹا گیا اور جان لیوا حملے کی کوشش بھی کی گئی۔ اس واقعے کے بعد متاثرین نے تھانے میں تحریری شکایت درج کرائی ہے اور ملزمان کے خلاف کارروائی کے ساتھ ساتھ اپنی حفاظت کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ملزمان کی دھمکیوں سے وہ خوفزدہ ہیں۔
دوسرا واقعہ، جس کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہی ہے، زیادہ سنگین نوعیت کا ہے۔ اس ویڈیو میں اتر پردیش اور دہلی کی کچھ لڑکیاں یہ الزام لگا رہی ہیں کہ انہیں ‘فیس بک میٹ’ کے نام پر مظفرپور کے سٹی پارک بلایا گیا اور پھر ان کے ساتھ بدسلوکی اور دھوکہ دہی کی گئی۔ لڑکیوں کا دعویٰ ہے کہ انہیں ان کے موبائل پر فحش پیغامات بھیجے گئے اور ان کے موبائل نمبرز اور آئی ڈیز کا غلط استعمال کرتے ہوئے دوسروں کو بھی قابل اعتراض پیغامات بھیجے گئے۔ اس معاملے میں ایک ایس ایس بی جوان کو بھی ملوث بتایا جا رہا ہے، تاہم ان الزامات کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔ متاثرہ لڑکیوں نے پولیس کے اعلیٰ افسران سے انصاف کا مطالبہ کیا ہے۔
سٹی پارک، جو کہ پہلے سیر و تفریح اور خاندانوں کے لیے ایک پرسکون جگہ کے طور پر جانا جاتا تھا، اب سوشل میڈیا سرگرمیوں اور اس سے جڑے تنازعات کی وجہ سے خبروں میں ہے۔ ان واقعات نے پارک میں سیکیورٹی کے انتظامات پر شدید تشویش پیدا کر دی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ دونوں معاملات کی تحقیقات جاری ہیں اور تفتیش مکمل ہونے کے بعد ضروری کارروائی کی جائے گی۔ یہ واقعات نہ صرف پارک کی ساکھ کو متاثر کر رہے ہیں بلکہ شہر میں خواتین اور نوجوانوں کی حفاظت کے حوالے سے بھی اہم سوالات اٹھا رہے ہیں۔
دستبرداری: یہ خبر دستیاب مقامی ذرائع کی بنیاد پر مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے تیار کی گئی ہے۔ AI سے غلطیاں ممکن ہیں اور اس مواد کی صحت یا اصلیت کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ TheAinak صرف معلومات کو یکجا کرتا ہے اور اس کے مواد کا ذمہ دار نہیں ہے۔ قارئین سے گزارش ہے کہ کسی بھی معلومات پر بھروسہ کرنے یا اس پر عمل کرنے سے پہلے اس کی آزادانہ طور پر تصدیق ضرور کر لیں۔