مظفرپور کا ہولناک سانحہ: آئی سی یو میں لگی آگ نے کئی گھروں کے چراغ گل کر دیے
مظفرپور کے پرشاد ہسپتال میں قیامت خیز آگ
مظفرپور کے برہم پورہ تھانہ علاقہ میں واقع پرشاد ہسپتال کے آئی سی یو میں پیش آنے والے آتشزدگی کے واقعے نے پورے علاقے کو سوگوار کر دیا ہے۔ اس المناک حادثے میں کئی مریضوں کی جانیں ضائع ہوئیں، جن میں نوجوان سرکاری ملازمین سے لے کر بزرگ شہری تک شامل ہیں۔ ہسپتال انتظامیہ کی مبینہ لاپرواہی کے خلاف لواحقین میں شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے۔
امنگیں دم توڑ گئیں
اس حادثے میں جان گنوانے والوں میں اورائی کے 30 سالہ ششانک کمار بھی شامل ہیں، جو محکمہ خزانہ میں ایل ڈی سی تھے۔ سڑک حادثے کے بعد ان کے سر کا کامیاب آپریشن ہوا تھا اور وہ بہتری کی جانب گامزن تھے، لیکن ہسپتال کی آگ نے ان کی زندگی کا سفر ہمیشہ کے لیے ختم کر دیا۔ اسی طرح، میناپور کے 76 سالہ کرشن نندن سنگھ، جو سینے اور پیٹ کے عارضے میں مبتلا تھے، بھی اس آگ کی نذر ہو گئے۔
علاج کے لیے آئے تھے، لاشیں گھر پہنچیں
متاثرین میں موتیپور کی 62 سالہ گیتا دیوی بھی شامل ہیں جو گزشتہ چھ ماہ سے یہاں ڈائلیسس کروا رہی تھیں۔ سیتا مڑھی کے 57 سالہ ادے کمار، جن کی حال ہی میں برین سرجری ہوئی تھی، اور 60 سالہ چنچلا ورما، جو پیر کے معمولی آپریشن کے بعد صحت یاب ہو رہی تھیں، بھی اس ہولناک حادثے میں اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔
انتظامیہ پر سوالات
لواحقین کا الزام ہے کہ ہسپتال میں ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے کوئی مناسب انتظام نہیں تھا۔ آگ لگنے کے بعد بروقت امدادی کارروائیاں نہ ہونے کی وجہ سے قیمتی جانیں ضائع ہوئیں۔ ہسپتال انتظامیہ کی جانب سے معلومات فراہم کرنے میں بھی کوتاہی برتی گئی، جس سے غمزدہ خاندانوں کی پریشانی میں مزید اضافہ ہوا۔
فی الحال ضلعی انتظامیہ معاملے کی تحقیقات کر رہی ہے اور متاثرہ خاندان انصاف کے لیے حکام سے سخت کارروائی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ انسانی حقوق کمیشن تک یہ معاملہ پہنچنے کے بعد اب ایک اعلیٰ سطحی تحقیقات کی امید کی جا رہی ہے۔
دستبرداری: یہ خبر دستیاب مقامی ذرائع کی بنیاد پر مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے تیار کی گئی ہے۔ AI سے غلطیاں ممکن ہیں اور اس مواد کی صحت یا اصلیت کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ TheAinak صرف معلومات کو یکجا کرتا ہے اور اس کے مواد کا ذمہ دار نہیں ہے۔ قارئین سے گزارش ہے کہ کسی بھی معلومات پر بھروسہ کرنے یا اس پر عمل کرنے سے پہلے اس کی آزادانہ طور پر تصدیق ضرور کر لیں۔
