مظفرپور: پیپا پُل کے پرزے غائب، سرکاری املاک کو نقصان، بودھن نگر گھاٹ پر تنصیب کا مطالبہ
مظفرپور: ضلع میں سرکاری املاک کے تحفظ پر سوالات اٹھنے لگے ہیں، جہاں محمدپور-دامودر کے قریب آدھار گھاٹ پر بے کار پڑے پیپا پُل کے پرزے غائب ہو رہے ہیں۔ اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے، بوچاہاں کی ایم ایل اے بیبی کماری نے ضلع مجسٹریٹ کمار گورو کو ایک خط لکھا ہے، جس میں ان پرزوں کو محفوظ کرنے اور انہیں مشہری بلاک کے بودھن نگر گھاٹ پر عارضی طور پر نصب کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
ایم ایل اے نے اپنے خط میں واضح کیا ہے کہ آدھار گھاٹ پر پہلے آمدورفت کے لیے استعمال ہونے والا پیپا پُل اب ناکارہ ہو چکا ہے۔ اس کے پیپے، پرزے، نٹ بولٹ اور دیگر سامان ندی کنارے غیر محفوظ حالت میں پڑے ہوئے ہیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ، ان میں سے کئی پرزے غائب ہو چکے ہیں، جس سے سرکاری املاک کو مسلسل نقصان پہنچ رہا ہے۔
سرکاری املاک کے تحفظ کا مطالبہ
بیبی کماری نے ضلع مجسٹریٹ سے فوری طور پر پیپا پُل سے متعلق تمام سامان کی فزیکل ویریفیکیشن کرانے، اس کی فہرست تیار کرنے، فوٹوگرافی اور وڈیوگرافی کرانے اور اسے محکمہ جاتی تحویل میں محفوظ رکھنے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ سرکاری املاک کا تحفظ یقینی بنایا جائے تاکہ مزید نقصان سے بچا جا سکے۔
بودھن نگر گھاٹ پر پیپا پُل کی دیرینہ مانگ
ایم ایل اے نے ضلع مجسٹریٹ کو یہ بھی بتایا کہ مشہری بلاک کے تحت ڈمری پنچایت میں واقع بوڑھی گنڈک ندی کے بودھن نگر گھاٹ پر پیپا پُل کی مانگ ایک طویل عرصے سے کی جا رہی ہے۔ یہ مسئلہ بہار ودھان سبھا میں بھی کئی بار اٹھایا جا چکا ہے۔
- بودھن نگر گھاٹ پر پیپا پُل کی تنصیب سے آس پاس کے ہزاروں دیہاتیوں کو آمدورفت میں بڑی سہولت ملے گی۔
- انہیں ندی پار کرنے کے لیے لمبا فاصلہ طے نہیں کرنا پڑے گا، جس سے وقت اور محنت دونوں کی بچت ہوگی۔
- یہ پُل مقامی معیشت اور سماجی روابط کو بھی فروغ دے گا۔
مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ اس پُل کی عدم موجودگی کی وجہ سے انہیں خاص طور پر برسات کے موسم میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ایم ایل اے کے اس اقدام سے امید کی جا رہی ہے کہ ضلع انتظامیہ اس مسئلے پر سنجیدگی سے غور کرے گی اور عوام کی دیرینہ مانگ کو پورا کرنے کے لیے عملی اقدامات کرے گی۔
دستبرداری: یہ خبر دستیاب مقامی ذرائع کی بنیاد پر مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے تیار کی گئی ہے۔ AI سے غلطیاں ممکن ہیں اور اس مواد کی صحت یا اصلیت کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ TheAinak صرف معلومات کو یکجا کرتا ہے اور اس کے مواد کا ذمہ دار نہیں ہے۔ قارئین سے گزارش ہے کہ کسی بھی معلومات پر بھروسہ کرنے یا اس پر عمل کرنے سے پہلے اس کی آزادانہ طور پر تصدیق ضرور کر لیں۔