مظفرپور پرشاد ہسپتال آتشزدگی: جانچ میں سیکیورٹی کے سنگین نقائص کا انکشاف
آئی سی یو میں آگ بجھانے کا کوئی خودکار نظام موجود نہیں تھا
مظفرپور کے برہم پورہ واقع پرشاد ہسپتال میں پیش آنے والے ہولناک آتشزدگی کے واقعے کی تحقیقات جیسے جیسے آگے بڑھ رہی ہیں، ہسپتال انتظامیہ کی جانب سے حفاظتی انتظامات میں برتی گئی سنگین لاپرواہیوں کی تہیں کھل کر سامنے آ رہی ہیں۔ ضلعی انتظامیہ اور فائر بریگیڈ کے افسران پر مشتمل ٹیم نے جب جائے وقوعہ کا تفصیلی معائنہ کیا تو کئی چونکا دینے والے حقائق سامنے آئے۔
سپرنکلر سسٹم کا فقدان
تحقیقاتی ٹیم کی رپورٹ کے مطابق، ہسپتال کی پانچویں منزل پر واقع آئی سی یو (ICU) میں آگ بجھانے والا خودکار نظام یعنی ‘سپرنکلر سسٹم’ سرے سے موجود ہی نہیں تھا۔ یہ ایک انتہائی حساس شعبہ ہے جہاں مریضوں کی زندگی کا انحصار طبی آلات پر ہوتا ہے، لیکن وہاں آگ پر قابو پانے کے لیے پانی کے چھڑکاؤ کا کوئی انتظام نہیں پایا گیا۔
فائر ہائیڈرنٹ کا استعمال کیوں نہیں ہوا؟
اگرچہ ہسپتال میں فائر ہائیڈرنٹ سسٹم نصب تھا، لیکن افسوسناک بات یہ ہے کہ حادثے کے وقت اس کا استعمال ہی نہیں کیا گیا۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر بروقت اس سسٹم کو فعال کر دیا جاتا تو آگ اور دھوئیں کے پھیلاؤ کو کافی حد تک محدود کیا جا سکتا تھا، جس سے جانی نقصان میں کمی لائی جا سکتی تھی۔
تربیت یافتہ عملے کی کمی
تحقیقات میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ ہسپتال میں موجود عملے کو آگ بجھانے والے آلات کے استعمال کا بنیادی طریقہ بھی معلوم نہیں تھا۔ برقی آلات میں لگنے والی آگ کے لیے کاربن ڈائی آکسائیڈ (CO2) سلنڈر کا استعمال ضروری ہوتا ہے، لیکن وہاں غلطی سے ‘اے بی سی’ (ABC) قسم کا سلنڈر استعمال کیا گیا، جس سے دھوئیں میں اضافہ ہوا اور مریضوں کی مشکلات مزید بڑھ گئیں۔
آئندہ کا لائحہ عمل
فی الحال تحقیقاتی ٹیم ہسپتال کے فائر این او سی (NOC) اور سیکیورٹی آڈٹ رپورٹ کی جانچ کر رہی ہے۔ شہر کے عوام کی نظریں اب اس حتمی رپورٹ پر جمی ہیں، جس سے یہ واضح ہو سکے گا کہ اس سانحے کے ذمہ دار کون ہیں اور انتظامیہ کی جانب سے کیا کارروائی کی جائے گی۔ اس سے قبل ہسپتال کا لائسنس بھی منسوخ کیا جا چکا ہے۔
دستبرداری: یہ خبر دستیاب مقامی ذرائع کی بنیاد پر مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے تیار کی گئی ہے۔ AI سے غلطیاں ممکن ہیں اور اس مواد کی صحت یا اصلیت کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ TheAinak صرف معلومات کو یکجا کرتا ہے اور اس کے مواد کا ذمہ دار نہیں ہے۔ قارئین سے گزارش ہے کہ کسی بھی معلومات پر بھروسہ کرنے یا اس پر عمل کرنے سے پہلے اس کی آزادانہ طور پر تصدیق ضرور کر لیں۔