مظفرپور ٹرانسپورٹ محکمہ کی تاریخ میں پہلی بار: پرینکا سنہا نے سنبھالی ڈی ٹی او کی کمان
52 سالہ تاریخ میں نیا باب
مظفرپور کے ضلعی ٹرانسپورٹ دفتر میں ایک تاریخی تبدیلی دیکھنے میں آئی ہے۔ محکمہ کی 52 سالہ طویل تاریخ میں پہلی بار کسی خاتون افسر کو ضلع ٹرانسپورٹ آفیسر (DTO) کے عہدے پر فائز کیا گیا ہے۔ پرینکا سنہا نے بدھ کے روز باضابطہ طور پر اپنا عہدہ سنبھال لیا ہے، جس کے ساتھ ہی وہ ضلع کی 38ویں ڈی ٹی او بن گئی ہیں۔
ذمہ داری اور استقبال
عہدہ سنبھالنے کے موقع پر سبکدوش ہونے والے انچارج ڈی ٹی او کمار راجیو نے انہیں چارج سونپا۔ اس موقع پر محکمہ کے دیگر افسران اور ملازمین نے پرینکا سنہا کا پرتپاک استقبال کیا اور انہیں گلدستے پیش کیے۔ تقریب میں اے ڈی ٹی او راجو کمار، ایم وی آئی راکیش رنجن، ارون کمار، چندن جھا سمیت محکمہ کے تمام اہم عہدیداران اور عملہ موجود تھا۔
ترجیحات اور عزم
اپنے نئے کردار پر بات کرتے ہوئے پرینکا سنہا نے کہا کہ ان کی اولین ترجیح عوام اور گاڑی مالکان کو سہولت فراہم کرنا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ٹرانسپورٹ سے متعلق تمام سرکاری کاموں کو ایک مقررہ وقت کے اندر مکمل کیا جائے گا تاکہ شہریوں کو کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ اس کے علاوہ، محکمہ کی جانب سے مقرر کردہ ریونیو کلیکشن کے اہداف کو پورا کرنا بھی ان کی ترجیحات میں شامل ہے۔
سابقہ تجربہ
پرینکا سنہا اس سے قبل گوپال گنج کے ہتھوا میں سب ڈویژنل پبلک گریوینس ریڈریسل آفیسر (SDO) کے طور پر اپنی خدمات انجام دے چکی ہیں۔ وہاں ان کی کارکردگی اور عوامی مسائل کے حل کے طریقہ کار کو کافی سراہا گیا تھا۔ اب مظفرپور کے عوام کو امید ہے کہ ان کی قیادت میں محکمہ ٹرانسپورٹ میں شفافیت اور کام کی رفتار میں بہتری آئے گی۔
مستقبل کی راہ
پرینکا سنہا کی تقرری کو انتظامی حلقوں میں ایک مثبت قدم کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ یہ تقرری نہ صرف محکمہ میں صنفی توازن کی عکاسی کرتی ہے بلکہ انتظامی امور میں خواتین کی بڑھتی ہوئی شرکت کی بھی ایک عمدہ مثال ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ ان کی قیادت میں مظفرپور کا ٹرانسپورٹ نظام کس طرح کی نئی بلندیوں کو چھوتا ہے۔
دستبرداری: یہ خبر دستیاب مقامی ذرائع کی بنیاد پر مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے تیار کی گئی ہے۔ AI سے غلطیاں ممکن ہیں اور اس مواد کی صحت یا اصلیت کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ TheAinak صرف معلومات کو یکجا کرتا ہے اور اس کے مواد کا ذمہ دار نہیں ہے۔ قارئین سے گزارش ہے کہ کسی بھی معلومات پر بھروسہ کرنے یا اس پر عمل کرنے سے پہلے اس کی آزادانہ طور پر تصدیق ضرور کر لیں۔