مقامی خبریں

مظفرپور میں 3.5 کروڑ روپے کی ٹھگی: سو سے زائد جیویکا دیدیاں متاثر، عدالتی کارروائی جاری

مظفرپور میں جیویکا دیدیوں کے ساتھ 3.5 کروڑ روپے کی مبینہ ٹھگی کے معاملے میں عدالتی کارروائی کا آغاز ہو گیا ہے۔ اس فراڈ سے سو سے زائد خواتین متاثر ہوئی ہیں، جن کی جمع پونجی دھوکہ دہی کا شکار ہو گئی۔ یہ واقعہ مظفرپور کے سماجی اور اقتصادی حلقوں میں تشویش کا باعث بن گیا ہے، جہاں خواتین کو خود مختار بنانے کی کوششوں کو اس طرح کے جرائم سے دھچکا پہنچ رہا ہے۔

جیویکا دیدیاں، جو دیہی علاقوں میں خواتین کو خود کفیل بنانے اور چھوٹے کاروبار شروع کرنے میں مدد فراہم کرتی ہیں، اس اسکیم کے تحت بچت اور قرض کے ذریعے اپنی زندگیوں کو بہتر بنانے کی کوشش کر رہی تھیں۔ تاہم، کچھ بدعنوان عناصر نے ان کے اعتماد کا ناجائز فائدہ اٹھایا اور انہیں مالی نقصان پہنچایا۔ متاثرہ خواتین نے انصاف کے حصول کے لیے عدالت کا رخ کیا ہے اور اب اس معاملے کی سماعت جاری ہے۔

اس فراڈ کی تفصیلات کے مطابق، ٹھگوں نے جیویکا دیدیوں کو مختلف پرکشش اسکیموں اور سرمایہ کاری کے مواقع کا جھانسا دیا، جس کے نتیجے میں انہوں نے اپنی محنت کی کمائی کو ان کے حوالے کر دیا۔ ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ یہ ایک منظم گروہ تھا جو دیہی علاقوں میں خواتین کے مالی معاملات سے واقف تھا اور ان کی کم علمی کا فائدہ اٹھا رہا تھا۔ پولیس اور انتظامیہ نے اس معاملے کو سنجیدگی سے لیا ہے اور ملزمان کی گرفتاری کے لیے کارروائی جاری ہے۔

متاثرہ خواتین نے اپنی روداد سناتے ہوئے بتایا کہ انہیں بڑے منافع کا لالچ دیا گیا تھا، جس کے بعد انہوں نے اپنی بچت اور بعض صورتوں میں قرض لے کر بھی رقم جمع کروائی۔ اب وہ خود کو بے بس اور دھوکہ دہی کا شکار محسوس کر رہی ہیں۔ ان کا مطالبہ ہے کہ نہ صرف ان کی رقم واپس دلائی جائے بلکہ مجرموں کو سخت سے سخت سزا بھی دی جائے تاکہ آئندہ کوئی اور اس طرح کی واردات کا شکار نہ ہو۔

عدالت میں اس معاملے کی سماعت کے دوران، متاثرہ خواتین کے بیانات قلمبند کیے جا رہے ہیں اور ثبوت و شواہد کی جانچ پڑتال کی جا رہی ہے۔ امید کی جا رہی ہے کہ جلد ہی اس معاملے میں کوئی ٹھوس پیش رفت ہو گی اور متاثرین کو انصاف مل سکے گا۔ یہ واقعہ اس بات کی بھی نشاندہی کرتا ہے کہ دیہی علاقوں میں مالی خواندگی اور بیداری کی کتنی ضرورت ہے تاکہ خواتین کو اس طرح کے فراڈ سے بچایا جا سکے۔ مقامی انتظامیہ اور سماجی تنظیموں کو اس سلسلے میں مزید اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔


دستبرداری: یہ خبر دستیاب مقامی ذرائع کی بنیاد پر مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے تیار کی گئی ہے۔ AI سے غلطیاں ممکن ہیں اور اس مواد کی صحت یا اصلیت کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ TheAinak صرف معلومات کو یکجا کرتا ہے اور اس کے مواد کا ذمہ دار نہیں ہے۔ قارئین سے گزارش ہے کہ کسی بھی معلومات پر بھروسہ کرنے یا اس پر عمل کرنے سے پہلے اس کی آزادانہ طور پر تصدیق ضرور کر لیں۔

😃+

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button