مظفرپور کی بہو، سونی گپتا نے جیتا مسز بہار 2026 کا تاج: ایک متاثر کن کہانی
مظفرپور: شہر کی بہو اور شانتی نکیتن رہائشی اسکول کی ڈائریکٹر سونی گپتا نے ‘مسز بہار 2026’ کا باوقار خطاب اپنے نام کر کے مظفرپور کا نام روشن کیا ہے۔ اس شاندار کامیابی کے بعد جب وہ پہلی بار اپنے اسکول پہنچیں تو ان کا والہانہ استقبال کیا گیا۔ اسکول کے پرنسپل، اساتذہ اور طلباء نے تالیوں کی گونج میں ان کا استقبال کیا، جو ان کی محنت اور لگن کا اعتراف تھا۔
پٹنہ کے ایک ہوٹل میں منعقدہ ‘ویواشری مسز بہار 2026’ مقابلے میں سونی گپتا نے سخت مقابلے کے بعد یہ اعزاز حاصل کیا۔ انہیں تاج کے ساتھ 50 ہزار روپے کی انعامی رقم بھی دی گئی۔ یہ کامیابی اس لیے بھی خاص ہے کہ سونی گپتا تین بچوں کی ماں ہیں اور ایک کامیاب کاروباری خاتون کے طور پر اسکول کی ذمہ داریاں بھی نبھا رہی ہیں۔ ان کے شوہر پیشے سے ڈاکٹر ہیں۔
خاندانی زندگی اور پیشہ ورانہ ذمہ داریوں میں توازن
سونی گپتا نے بتایا کہ انہوں نے خاندانی اور پیشہ ورانہ زندگی کے درمیان بہترین توازن قائم کرتے ہوئے اس مقابلے کی تیاری کی۔ یہ ان کا پہلا بیوٹی پیجنٹ تھا اور پہلی ہی کوشش میں انہوں نے یہ بڑا خطاب اپنے نام کر لیا۔ انہوں نے انسٹاگرام کے ذریعے اس مقابلے کے بارے میں جانا۔ ابتدا میں ان کے شوہر نے انہیں حصہ لینے کی اجازت نہیں دی تھی، لیکن سونی نے انہیں اپنی خواہش اور اس پلیٹ فارم کی اہمیت کے بارے میں سمجھایا، جس کے بعد انہیں پورے خاندان کا بھرپور تعاون ملا۔
تیاری اور مستقبل کے عزائم
مقابلے سے قبل، سونی گپتا نے 15 دن کا گرومنگ سیشن جوائن کیا، جہاں انہوں نے شخصیت کی نشوونما، خود اعتمادی اور اسٹیج پر موجودگی کے بارے میں خصوصی تربیت حاصل کی۔ اسی تیاری کا نتیجہ تھا کہ انہوں نے مقابلے میں کامیابی حاصل کی۔ مقابلے کے ججوں میں مسز ورلڈ 2025 سرگم کوشل سمیت کئی ماہرین شامل تھے۔ شرکاء کا جائزہ ان کی شخصیت، خود اعتمادی، اسٹیج پرفارمنس اور بات چیت کی مہارت کی بنیاد پر کیا گیا۔
سونی گپتا نے اپنے مستقبل کے عزائم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ اب اس شعبے میں مزید آگے بڑھنا چاہتی ہیں۔ ان کی خواہش ہے کہ وہ مستقبل میں قومی اور بین الاقوامی مقابلوں میں حصہ لیں اور فلموں اور اشتہارات میں بھی کام کریں۔ ان کا سب سے بڑا خواب بین الاقوامی سطح پر ہندوستان کی نمائندگی کرنا ہے۔ ان کی یہ کامیابی مظفرپور کی خواتین کے لیے ایک تحریک ہے۔
دستبرداری: یہ خبر دستیاب مقامی ذرائع کی بنیاد پر مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے تیار کی گئی ہے۔ AI سے غلطیاں ممکن ہیں اور اس مواد کی صحت یا اصلیت کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ TheAinak صرف معلومات کو یکجا کرتا ہے اور اس کے مواد کا ذمہ دار نہیں ہے۔ قارئین سے گزارش ہے کہ کسی بھی معلومات پر بھروسہ کرنے یا اس پر عمل کرنے سے پہلے اس کی آزادانہ طور پر تصدیق ضرور کر لیں۔
