مظفرپور میں مانسون کی سست رفتاری: دھان کی کھیتی پر منڈلایا خطرہ، کسانوں کی پریشانی میں اضافہ
مظفرپور میں مانسون کی بے رخی سے کسان فکرمند
مظفرپور اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں مانسون کی سست رفتار نے کسانوں کی نیندیں اڑا دی ہیں۔ کھیتوں میں دھان کی روپائی اور بیجوں کی آبپاشی کے لیے درکار نمی کی کمی نے زرعی سرگرمیوں کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ ابتدائی دنوں میں ہونے والی کچھ بارشوں سے کسانوں کو جو امید ملی تھی، وہ اب ماند پڑتی دکھائی دے رہی ہے۔
آبپاشی کے لیے بجلی اور ڈیزل پمپ کا سہارا
بارش کا سلسلہ تھم جانے کے بعد، کسانوں کے لیے کھیتوں میں نمی برقرار رکھنا ایک بڑی چنوتی بن گیا ہے۔ بوچاہ جیسے علاقوں میں کسان اب مکمل طور پر بجلی سے چلنے والے پمپوں پر انحصار کر رہے ہیں، جبکہ ڈیزل پمپوں کا استعمال بھی مجبوری بن چکا ہے۔ کسانوں کا کہنا ہے کہ اگر مانسون کی یہی صورتحال برقرار رہی تو دھان کی فصل کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے، جس سے پیداوار پر برا اثر پڑے گا۔
ماہرین کی رائے اور آئندہ کا موسم
راجندر پرساد مرکزی زرعی یونیورسٹی، پوسا کے ماہرین کے مطابق، اگلے دو دنوں تک موسم خشک رہنے کا امکان ہے۔ تاہم، 5 سے 7 جولائی کے درمیان شمالی بہار کے مختلف اضلاع میں گرج چمک کے ساتھ ہلکی سے درمیانی بارش کی پیش گوئی کی گئی ہے۔ اس دوران تیز ہواؤں اور بجلی گرنے کا بھی خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔
کسانوں کے لیے مشورے
- دھان کی اگیتی اقسام کی بوائی 10 سے 15 جولائی تک مکمل کر لیں۔
- جن علاقوں میں آبپاشی کی سہولت کم ہے، وہاں کم مدت والی اور خشک سالی برداشت کرنے والی فصلوں کا انتخاب کریں۔
- موسم کی غیر یقینی صورتحال کو دیکھتے ہوئے دھان کے ساتھ ساتھ مکہ، ارہر، مونگ، اور دیگر چارہ فصلوں کی کاشت پر بھی غور کریں۔
- ماہرین نے مشورہ دیا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے پیش نظر کسان اپنی حکمت عملی میں تبدیلی لائیں تاکہ نقصان کے خطرے کو کم کیا جا سکے۔
مجموعی طور پر، مانسون کی یہ سست روی نہ صرف مظفرپور بلکہ پورے خطے کے لیے ایک تشویشناک صورتحال پیدا کر رہی ہے، جس سے نمٹنے کے لیے کسانوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔
دستبرداری: یہ خبر دستیاب مقامی ذرائع کی بنیاد پر مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے تیار کی گئی ہے۔ AI سے غلطیاں ممکن ہیں اور اس مواد کی صحت یا اصلیت کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ TheAinak صرف معلومات کو یکجا کرتا ہے اور اس کے مواد کا ذمہ دار نہیں ہے۔ قارئین سے گزارش ہے کہ کسی بھی معلومات پر بھروسہ کرنے یا اس پر عمل کرنے سے پہلے اس کی آزادانہ طور پر تصدیق ضرور کر لیں۔
