مہنگائی کی لہر سے کانوریا سیوا کیمپ بھی متاثر: مظفرپور میں عقیدت مندوں کو مشکلات کا سامنا
مظفرپور: ہر سال کی طرح اس سال بھی شیو بھکتوں کے لیے لگائے جانے والے کانوریا سیوا کیمپ مہنگائی کی زد میں آ گئے ہیں۔ یہ کیمپ، جو عقیدت مندوں کو راحت فراہم کرتے ہیں، اب خود مالی دباؤ کا شکار ہیں۔ بڑھتی ہوئی قیمتوں نے ان کیمپوں کے منتظمین کے لیے انتظامات کرنا مشکل بنا دیا ہے، جس کا براہ راست اثر کانوریا یاتریوں پر پڑ رہا ہے۔
روایتی طور پر، ساون کے مہینے میں ہزاروں کی تعداد میں عقیدت مند جل ابھیشیک کے لیے گنگا جل لینے جاتے ہیں۔ ان کی سہولت کے لیے راستے میں کئی مقامات پر سیوا کیمپ لگائے جاتے ہیں جہاں انہیں آرام، کھانا، پانی اور طبی امداد فراہم کی جاتی ہے۔ یہ کیمپ سماجی اور مذہبی تنظیموں کے تعاون سے چلائے جاتے ہیں اور ان کا مقصد یاتریوں کی تھکن اور مشکلات کو کم کرنا ہوتا ہے۔
تاہم، اس سال اشیائے خوردونوش، ایندھن اور دیگر ضروری سامان کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافے نے ان کیمپوں کے بجٹ کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ منتظمین کا کہنا ہے کہ دال، چاول، آٹا، سبزیوں اور تیل جیسی بنیادی اشیاء کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں۔ اس کے علاوہ، ٹینٹ، کرسیاں، بستر اور دیگر عارضی انتظامات کے اخراجات میں بھی اضافہ ہوا ہے۔
ایک کیمپ کے منتظم نے بتایا کہ پچھلے سال کے مقابلے میں اس سال انتظامات پر تقریباً 20 سے 30 فیصد زیادہ خرچ آ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ رضاکاروں کی خدمات تو مفت ہوتی ہیں، لیکن کھانے پینے اور دیگر سہولیات فراہم کرنے کے لیے کافی فنڈز کی ضرورت ہوتی ہے۔ کئی کیمپوں کو اپنے بجٹ میں کٹوتی کرنی پڑی ہے، جس کی وجہ سے وہ پہلے جیسی سہولیات فراہم کرنے سے قاصر ہیں۔
کچھ کیمپوں نے اپنی خدمات کو محدود کر دیا ہے، جبکہ کچھ نے عطیات کے لیے مزید اپیلیں کی ہیں۔ اس صورتحال سے کانوریا یاتریوں کو بھی پریشانی کا سامنا ہے، کیونکہ انہیں توقع کے مطابق سہولیات نہیں مل پا رہی ہیں۔ کئی یاتریوں نے شکایت کی ہے کہ کیمپوں میں کھانے پینے کی اشیاء کی مقدار کم کر دی گئی ہے اور آرام کے لیے جگہ بھی محدود ہو گئی ہے۔
یہ صورتحال اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ کس طرح مہنگائی کا اثر عام زندگی کے ہر شعبے پر پڑ رہا ہے، یہاں تک کہ مذہبی اور سماجی خدمات بھی اس سے اچھوتی نہیں ہیں۔ منتظمین اور عقیدت مندوں کو امید ہے کہ آئندہ سال حالات بہتر ہوں گے اور وہ بغیر کسی مالی دباؤ کے اپنی خدمات جاری رکھ سکیں گے۔
دستبرداری: یہ خبر دستیاب مقامی ذرائع کی بنیاد پر مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے تیار کی گئی ہے۔ AI سے غلطیاں ممکن ہیں اور اس مواد کی صحت یا اصلیت کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ TheAinak صرف معلومات کو یکجا کرتا ہے اور اس کے مواد کا ذمہ دار نہیں ہے۔ قارئین سے گزارش ہے کہ کسی بھی معلومات پر بھروسہ کرنے یا اس پر عمل کرنے سے پہلے اس کی آزادانہ طور پر تصدیق ضرور کر لیں۔
