مظفرپور میں بجلی کے پری پیڈ میٹرز پر ہنگامہ: صارفین کا 5 ہزار روپے کٹنے اور بجلی گل ہونے کا دعویٰ
مظفرپور، بہار: مظفرپور شہر میں بجلی کے پری پیڈ میٹرز کے حوالے سے صارفین کی شکایات نے شدید ہنگامے کی شکل اختیار کر لی ہے۔ شہریوں نے توڑ پھوڑ، پتھراؤ اور احتجاجی مظاہرے کیے، جس میں ان کا دعویٰ تھا کہ ان کے پری پیڈ میٹرز سے بلاوجہ 5 ہزار روپے کٹ گئے ہیں اور اس کے باوجود بجلی کی سپلائی منقطع کر دی گئی ہے۔ اس واقعے نے علاقے میں کشیدگی پیدا کر دی ہے اور مقامی انتظامیہ کے لیے صورتحال کو قابو میں لانا ایک چیلنج بن گیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق، یہ واقعہ مظفرپور کے مختلف علاقوں میں پیش آیا جہاں بجلی کے صارفین نے اچانک اپنے پری پیڈ میٹرز سے بڑی رقم کٹنے کی شکایت کی۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کے میٹرز میں بیلنس موجود ہونے کے باوجود، اچانک 5 ہزار روپے کی کٹوتی کر دی گئی اور اس کے فوراً بعد بجلی کی سپلائی بھی بند کر دی گئی۔ اس غیر متوقع صورتحال نے صارفین کو شدید پریشانی میں مبتلا کر دیا، خاص طور پر ایسے وقت میں جب گرمی کی شدت عروج پر ہے۔
صارفین کا غصہ اس وقت پھوٹ پڑا جب ان کی شکایات پر کوئی فوری کارروائی نہیں کی گئی اور نہ ہی انہیں کوئی تسلی بخش جواب ملا۔ مشتعل افراد نے سڑکوں پر آ کر احتجاج شروع کر دیا، جس میں توڑ پھوڑ اور پتھراؤ کے واقعات بھی پیش آئے۔ مظاہرین نے بجلی محکمہ کے خلاف شدید نعرے بازی کی اور پری پیڈ میٹرز کے نظام کو ناقص قرار دیا۔ ان کا مطالبہ تھا کہ کٹی ہوئی رقم فوری طور پر واپس کی جائے اور بجلی کی سپلائی بحال کی جائے۔
مقامی ذرائع کے مطابق، مظاہرین کا کہنا تھا کہ پری پیڈ میٹرز کا نظام شفاف نہیں ہے اور اس میں کئی تکنیکی خرابیاں موجود ہیں۔ ان کے مطابق، یہ پہلی بار نہیں ہے کہ انہیں اس طرح کی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہو۔ ماضی میں بھی بیلنس کے اچانک غائب ہونے اور بجلی کٹنے کی شکایات موصول ہوتی رہی ہیں، لیکن اس بار کٹوتی کی رقم بہت زیادہ تھی جس نے صارفین کو مزید مشتعل کر دیا۔
اس واقعے کے بعد، مقامی پولیس اور انتظامیہ نے موقع پر پہنچ کر صورتحال کو قابو میں کرنے کی کوشش کی۔ مظاہرین کو پرسکون کرنے اور انہیں یقین دہانی کرانے کی کوشش کی گئی کہ ان کی شکایات پر غور کیا جائے گا اور ذمہ داران کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ تاہم، صارفین کا مطالبہ ہے کہ صرف یقین دہانی کافی نہیں، بلکہ عملی اقدامات کیے جائیں تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات سے بچا جا سکے۔
بجلی محکمہ کے حکام کی جانب سے ابھی تک اس معاملے پر کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا ہے۔ یہ دیکھنا باقی ہے کہ محکمہ اس صورتحال سے کیسے نمٹتا ہے اور صارفین کے خدشات کو کس طرح دور کرتا ہے۔ مظفرپور کے شہریوں کی نظریں اب انتظامیہ کے اگلے اقدامات پر مرکوز ہیں تاکہ ان کے بجلی کے بلوں اور سپلائی سے متعلق مسائل کا کوئی مستقل حل نکل سکے۔
دستبرداری: یہ خبر دستیاب مقامی ذرائع کی بنیاد پر مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے تیار کی گئی ہے۔ AI سے غلطیاں ممکن ہیں اور اس مواد کی صحت یا اصلیت کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ TheAinak صرف معلومات کو یکجا کرتا ہے اور اس کے مواد کا ذمہ دار نہیں ہے۔ قارئین سے گزارش ہے کہ کسی بھی معلومات پر بھروسہ کرنے یا اس پر عمل کرنے سے پہلے اس کی آزادانہ طور پر تصدیق ضرور کر لیں۔
