مظفرپور: قیدی کی موت پر ایس کے ایم سی ایچ میں ہنگامہ، اہل خانہ کا پولیس پر رشوت اور غفلت کا الزام
مظفرپور کے شہید کھدی رام بوس سنٹرل جیل میں زیرِ علاج ایک قیدی کی موت کے بعد ایس کے ایم سی ایچ میں اس کے اہل خانہ نے شدید ہنگامہ آرائی کی۔ متوفی کے رشتہ داروں نے پولیس پر دس ہزار روپے رشوت طلب کرنے اور جیل میں مناسب طبی امداد نہ ملنے کا سنگین الزام عائد کیا ہے، جس کے نتیجے میں قیدی کی موت واقع ہوئی۔
تفصیلات کے مطابق، 62 سالہ گونو داس، جو تیجول، وارڈ نمبر دو، بینی آباد تھانہ علاقے کے رہائشی تھے، جمعرات کو ایس کے ایم سی ایچ میں علاج کے دوران انتقال کر گئے۔ گونو داس کو 19 جولائی کو پانچ لیٹر دیسی شراب کے ساتھ گرفتار کیا گیا تھا اور 20 جولائی کو انہیں سنٹرل جیل بھیجا گیا تھا۔
جیل گیٹ پر طبی معائنے کے دوران گونو داس کو کرونک الکحل ودڈرال سنڈروم سمیت کئی دیگر سنگین بیماریوں میں مبتلا پایا گیا تھا۔ جیل انتظامیہ نے انہیں نشہ مکتی کیندر (صدر اسپتال) منتقل کیا، لیکن ان کی حالت میں کوئی بہتری نہ آنے پر ڈاکٹروں نے انہیں جمعرات کو ایس کے ایم سی ایچ ریفر کر دیا۔ افسوسناک طور پر، ایس کے ایم سی ایچ میں علاج کے دوران ہی ان کی سانسیں تھم گئیں۔
گونو داس کی موت کی خبر ملتے ہی ان کے اہل خانہ ایس کے ایم سی ایچ ایمرجنسی کے باہر جمع ہو گئے اور شدید احتجاج کیا۔ اہل خانہ کا دعویٰ ہے کہ پولیس نے گونو داس کو رہا کرنے کے عوض دس ہزار روپے رشوت کا مطالبہ کیا تھا۔ ان کے مطابق، جب رشوت نہیں دی گئی تو انہیں جیل بھیج دیا گیا، جہاں انہیں صحیح علاج نہیں ملا، جس کی وجہ سے ان کی موت ہو گئی۔
دوسری جانب، جیل انتظامیہ نے اہل خانہ کے تمام الزامات کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔ جیل حکام کا کہنا ہے کہ قیدی مسلسل ڈاکٹروں کی نگرانی میں تھا اور اسے تمام ضروری طبی سہولیات فراہم کی جا رہی تھیں۔ انتظامیہ نے مزید بتایا کہ واقعہ کے بعد ایک مجسٹریٹ کی موجودگی میں موت کی جائزہ رپورٹ تیار کی گئی اور میڈیکل بورڈ کے ذریعے لاش کا پوسٹ مارٹم کرایا گیا۔ اس پورے عمل کی باقاعدہ ویڈیو گرافی بھی کی گئی، جس کے بعد لاش کو اہل خانہ کے حوالے کر دیا گیا۔
یہ واقعہ ایک بار پھر جیلوں میں قیدیوں کی صحت اور پولیس کے رویے پر سوالات کھڑے کر رہا ہے۔ مقامی حکام سے اس معاملے کی شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔
دستبرداری: یہ خبر دستیاب مقامی ذرائع کی بنیاد پر مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے تیار کی گئی ہے۔ AI سے غلطیاں ممکن ہیں اور اس مواد کی صحت یا اصلیت کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ TheAinak صرف معلومات کو یکجا کرتا ہے اور اس کے مواد کا ذمہ دار نہیں ہے۔ قارئین سے گزارش ہے کہ کسی بھی معلومات پر بھروسہ کرنے یا اس پر عمل کرنے سے پہلے اس کی آزادانہ طور پر تصدیق ضرور کر لیں۔
