مظفرپور میں انٹرنیٹ سروس معطل، 8 شرپسندوں کی تصاویر جاری، شناخت پر 10 ہزار کا انعام
مظفرپور میں انٹرنیٹ سروس معطل، 8 شرپسندوں کی تصاویر جاری، شناخت پر 10 ہزار کا انعام
مظفرپور میں نیٹ پیپر لیک معاملے پر ہونے والے احتجاج کے بعد شہر میں امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھنے کے لیے انتظامیہ نے سخت اقدامات کیے ہیں۔ 24 جولائی دوپہر 12:30 بجے سے 26 جولائی صبح 10 بجے تک ٹاؤن-1 اور ٹاؤن-2 پولیس سب ڈویژن کے علاقوں میں انٹرنیٹ خدمات معطل کر دی گئی ہیں۔ اس پابندی میں فیس بک، ایکس، واٹس ایپ، انسٹاگرام سمیت تقریباً 24 سوشل نیٹ ورکنگ اور میسجنگ سروسز شامل ہیں۔ کسی بھی قسم کے پیغام، تصویر، ویڈیو یا دیگر ڈیجیٹل مواد کی ترسیل پر مکمل پابندی عائد کی گئی ہے، تاہم سرکاری کاموں کے لیے استعمال ہونے والی انٹرنیٹ خدمات کو اس سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے۔
شہر میں ڈرون کیمروں کے ذریعے نگرانی کی جا رہی ہے اور چپے چپے پر سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔ ایس ایس پی کانتیش کمار مشرا خود صورتحال کی نگرانی کر رہے ہیں اور سی سی ٹی وی کنٹرول روم سے بھی نظر رکھی جا رہی ہے۔
احتجاج اور توڑ پھوڑ
نیٹ پیپر لیک معاملے پر طلباء کا احتجاج جو دہلی سے شروع ہوا تھا، اب مظفرپور میں بھی شدت اختیار کر گیا ہے۔ جمعرات کو سیکڑوں طلباء نے تقریباً پانچ گھنٹے تک شہر کی سڑکوں پر احتجاجی مارچ کیا، جس کے دوران کئی مقامات پر سرکاری املاک کو نقصان پہنچایا گیا۔ پولیس پکیٹ بھی توڑا گیا۔ کल्याنی چوک سے شروع ہونے والا مارچ پانی ٹنکی چوک، مٹھن پورہ، موتی جھیل، صدر اسپتال سے ہوتا ہوا کلکٹریٹ تک پہنچا۔ ایک اور جلوس آر ڈی ایس کالج سے ہری سبھا چوک ہوتے ہوئے کल्याنی چوک پہنچا۔ احتجاج کے دوران کلکٹریٹ گیٹ، کمپنی باغ روڈ، موتی جھیل پل اور کल्याنی چوک کے آس پاس کئی جگہوں پر بیری کیڈنگ، گولمبر، سرکاری ہورڈنگز اور بینرز کو نقصان پہنچایا گیا۔
پولیس کی کارروائی اور انعام کا اعلان
پولیس نے احتجاج کے دوران توڑ پھوڑ کرنے والے 8 افراد کی تصاویر جاری کی ہیں اور ان کی شناخت بتانے والے کو 10 ہزار روپے انعام دینے کا اعلان کیا ہے۔ ایس ایس پی نے خبردار کیا ہے کہ ویڈیو فوٹیج اور دیگر شواہد کی بنیاد پر توڑ پھوڑ کرنے والوں کی شناخت کی جائے گی اور ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے نوجوانوں اور طلباء سے اپیل کی ہے کہ وہ کسی کے بہکاوے میں آکر پرتشدد سرگرمیوں میں شامل نہ ہوں۔ ایس ایس پی نے کہا کہ اگر کسی طالب علم پر اس طرح کے معاملے میں ایف آئی آر درج ہوتی ہے تو اس کا اثر اس کے مستقبل کی تعلیم، مسابقتی امتحانات اور سرکاری نوکری پر پڑ سکتا ہے۔
مطالبات اور انتظامیہ کا ردعمل
احتجاج کے بعد طلباء کے ایک وفد نے ڈی ایم کمار گورو سے ملاقات کی اور انہیں ایک یادداشت پیش کی۔ اس یادداشت میں نیٹ پیپر لیک معاملے میں کارروائی اور جان گنوانے والے طلباء کے لواحقین کو ایک کروڑ روپے معاوضہ دینے سمیت دیگر مطالبات شامل تھے۔ ڈی ایم کمار گورو نے بتایا کہ طلباء کی جانب سے پیش کی گئی یادداشت کو مناسب ذریعے سے متعلقہ محکمہ تک پہنچایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ احتجاج کے دوران امن و امان برقرار رکھنے کے لیے شہر کے مختلف چوک چوراہوں پر بڑی تعداد میں پولیس فورس تعینات کی گئی تھی۔
جمعرات کی دیر رات تقریباً 10:45 بجے ایس ایس پی کانتیش کمار مشرا نے فیس بک لائیو کے ذریعے لوگوں اور طلباء سے خطاب کیا۔ انہوں نے کہا کہ جمہوری طریقے سے اپنی بات رکھنا سب کا حق ہے اور مظفرپور میں زیادہ تر طلباء نے پرسکون طریقے سے اپنی بات رکھی۔ تاہم، انہوں نے واضح کیا کہ کچھ شرپسند عناصر نے احتجاج کی آڑ میں عوامی املاک کو نقصان پہنچایا ہے، جو کسی بھی صورت میں قابل قبول نہیں ہے۔
آج بھی طلباء کے ممکنہ احتجاج کے پیش نظر شہر میں سیکیورٹی سخت کر دی گئی ہے اور حساس مقامات پر اضافی پولیس فورس تعینات کی گئی ہے۔ انتظامیہ پورے واقعے پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔
دستبرداری: یہ خبر دستیاب مقامی ذرائع کی بنیاد پر مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے تیار کی گئی ہے۔ AI سے غلطیاں ممکن ہیں اور اس مواد کی صحت یا اصلیت کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ TheAinak صرف معلومات کو یکجا کرتا ہے اور اس کے مواد کا ذمہ دار نہیں ہے۔ قارئین سے گزارش ہے کہ کسی بھی معلومات پر بھروسہ کرنے یا اس پر عمل کرنے سے پہلے اس کی آزادانہ طور پر تصدیق ضرور کر لیں۔
