مظفرپور: موتی جھیل میں الیکٹرک تاجر پر قاتلانہ حملہ، حالت تشویشناک
موتی جھیل میں دن دہاڑے واردات
مظفرپور کے مصروف ترین تجارتی مرکز موتی جھیل میں ہفتہ کی شام ایک الیکٹرک سامان کے تاجر پر ہوئے قاتلانہ حملے نے پورے علاقے میں خوف و ہراس پھیلا دیا ہے۔ دھرم شالہ چوک کے قریب پیش آئے اس واقعہ میں تاجر گورو کمار شدید زخمی ہو گئے ہیں۔
واقعہ کی تفصیلات
موصولہ اطلاعات کے مطابق، گورو کمار اپنی دکان بند کر کے تلک میدان روڈ سے اپنے گھر کھبڑا لوٹ رہے تھے۔ اسی دوران موتی جھیل کے پاس گھات لگائے بیٹھے حملہ آوروں نے ان پر چاقو سے یکے بعد دیگرے کئی وار کیے۔ حملہ اتنا شدید تھا کہ گورو موقع پر ہی خون میں لت پت ہو کر گر پڑے۔ ابتدائی طور پر علاقے میں گولی چلنے کی افواہ پھیلی تھی، لیکن بعد میں یہ واضح ہوا کہ حملہ آوروں نے تیز دھار ہتھیار کا استعمال کیا ہے۔ گورو کے سینے، گردن اور کمر کے حصے میں گہرے زخم آئے ہیں۔
پولیس کی کارروائی اور طبی امداد
واقعہ کی اطلاع ملتے ہی مقامی لوگ اور راہگیر فوراً حرکت میں آئے اور زخمی حالت میں گورو کو صدر ہسپتال پہنچایا۔ زخموں کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے ڈاکٹروں نے انہیں فوری طور پر ایس کے ایم سی ایچ (SKMCH) ریفر کر دیا۔ نگر تھانہ کے ایس ایچ او جے پرکاش سنگھ نے ذاتی دلچسپی لیتے ہوئے زخمی تاجر کو ہسپتال پہنچانے اور بروقت علاج شروع کروانے میں اہم کردار ادا کیا۔ پولیس افسر مسلسل ہسپتال میں موجود رہ کر صورتحال پر نظر رکھے ہوئے تھے۔
پرانی دشمنی کا پہلو
گورو کے اہل خانہ نے پولیس کو دی گئی شکایت میں پرانی دشمنی کو اس حملے کی وجہ بتایا ہے۔ جس وقت یہ واقعہ پیش آیا، گورو کے والد اور چھوٹا بھائی کام کے سلسلے میں سمستی پور کے موری گھراری گئے ہوئے تھے۔ اطلاع ملتے ہی وہ واپس لوٹ آئے ہیں۔ پولیس نے جائے وقوعہ کے آس پاس لگے سی سی ٹی وی کیمروں اور مشتبہ افراد کے لوکیشن کی بنیاد پر تفتیش شروع کر دی ہے۔ ایس کے ایم سی ایچ میں علاج کے بعد گورو کی حالت میں بہتری بتائی جا رہی ہے اور ڈاکٹروں کے مطابق وہ اب خطرے سے باہر ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ جلد ہی حملہ آوروں کو گرفتار کر لیا جائے گا۔
دستبرداری: یہ خبر دستیاب مقامی ذرائع کی بنیاد پر مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے تیار کی گئی ہے۔ AI سے غلطیاں ممکن ہیں اور اس مواد کی صحت یا اصلیت کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ TheAinak صرف معلومات کو یکجا کرتا ہے اور اس کے مواد کا ذمہ دار نہیں ہے۔ قارئین سے گزارش ہے کہ کسی بھی معلومات پر بھروسہ کرنے یا اس پر عمل کرنے سے پہلے اس کی آزادانہ طور پر تصدیق ضرور کر لیں۔
