مظفرپور: دوسری شادی کا विरोध کرنے پر شوہر کا سفاکانہ حملہ، بیوی کا کان اور بیٹی کی ناک کاٹی
مظفرپور میں گھریلو تشدد کا ہولناک واقعہ
مظفرپور کے غریب استھان روڈ علاقے میں ایک شخص نے اپنی پہلی بیوی اور بچوں پر جان لیوا حملہ کر کے انسانیت کو شرمشار کر دیا ہے۔ ملزم نے اپنی دوسری شادی کی مخالفت کرنے پر اپنی ہی اہلیہ اور بیٹی کو تیز دھار ہتھیاروں اور لوہے کے پائپ سے شدید زخمی کر دیا۔ اس وحشیانہ حملے میں متاثرہ خاتون کا کان کٹ گیا ہے، جبکہ درمیان میں بچاؤ کے لیے آنے والی ان کی بیٹی کی ناک پر بھی گہرے زخم آئے ہیں۔
پرانا تنازعہ اور جہیز کا مطالبہ
متاثرہ خاتون نے مقامی تھانے میں درج کرائی گئی اپنی شکایت میں بتایا کہ ان کی شادی سال 2005 میں ہوئی تھی اور ان کے تین بچے ہیں۔ شادی کے بعد سے ہی شوہر امیت کمار مسلسل جہیز میں پانچ لاکھ روپے کا مطالبہ کر رہا تھا اور اس کے لیے انہیں جسمانی اور ذہنی تشدد کا نشانہ بناتا تھا۔ یہ معاملہ پہلے بھی عدالت تک پہنچا تھا، لیکن سال 2022 میں دباؤ ڈال کر کیس واپس کروا لیا گیا تھا۔
دوسری شادی کے بعد ظلم کی انتہا
خاتون کا الزام ہے کہ ان کے شوہر نے دوسری برادری کی ایک خاتون سے شادی کر لی ہے اور اب وہ اسی کے ساتھ رہائش پذیر ہے۔ جب بھی وہ گھر آتا ہے، بیوی اور بچوں پر تشدد کرتا ہے، گھر کا خرچ اور بچوں کی فیس دینے سے صاف انکار کر دیتا ہے، اور مسلسل پانچ لاکھ روپے لانے کا مطالبہ کرتا ہے۔
- خاتون کا کان اور کلائی شدید زخمی۔
- بیٹی کی ناک پر گہرا زخم۔
- خاتون کو گھر سے نکالنے اور راشن بند کرنے کی دھمکیاں۔
متاثرہ خاتون نے بتایا کہ ملزم اکثر رات کے وقت انہیں گھر سے باہر نکال دیتا ہے اور طلاق کا مطالبہ کرتا ہے۔ حالیہ واقعے میں ملزم نے جان سے مارنے کی نیت سے حملہ کیا، جس سے خاتون کے ہاتھ، پیر اور کان شدید متاثر ہوئے ہیں۔ پولیس نے خاتون کی شکایت پر مقدمہ درج کر کے تفتیش شروع کر دی ہے۔ اس واقعے نے پورے علاقے میں خوف و ہراس پھیلا دیا ہے اور لوگ ملزم کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
دستبرداری: یہ خبر دستیاب مقامی ذرائع کی بنیاد پر مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے تیار کی گئی ہے۔ AI سے غلطیاں ممکن ہیں اور اس مواد کی صحت یا اصلیت کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ TheAinak صرف معلومات کو یکجا کرتا ہے اور اس کے مواد کا ذمہ دار نہیں ہے۔ قارئین سے گزارش ہے کہ کسی بھی معلومات پر بھروسہ کرنے یا اس پر عمل کرنے سے پہلے اس کی آزادانہ طور پر تصدیق ضرور کر لیں۔
