مظفرپور: بغیر منظوری چلنے والے آکسفورڈ اسکول پر تالا، ایک لاکھ کا جرمانہ عائد
تعلیمی ضوابط کی خلاف ورزی پر سخت کارروائی
مظفرپور کے بھگوان پور علاقے میں واقع آکسفورڈ سینئر سیکنڈری اسکول کے خلاف محکمہ تعلیم نے بڑی کارروائی کرتے ہوئے اسکول کے آپریشن پر فوری پابندی عائد کر دی ہے۔ یہ اقدام اس وقت اٹھایا گیا جب تحقیقات میں یہ بات ثابت ہوئی کہ یہ تعلیمی ادارہ بغیر کسی سرکاری منظوری کے غیر قانونی طور پر چلایا جا رہا تھا۔
شکایت کے بعد شروع ہوئی جانچ
اسکول کے خلاف کارروائی کا آغاز تب ہوا جب ایک طالب علم کو دھوپ میں کھڑا کرنے کی شکایت والدین کی جانب سے درج کرائی گئی۔ اس سنگین معاملے کے بعد محکمہ تعلیم نے معاملے کا نوٹس لیا اور ڈی پی او (ایس ایس اے) اور ڈپٹی ڈائریکٹر سوشل سیکیورٹی کی ایک ٹیم نے 20 مئی کو اسکول کا دورہ کیا۔ اس اچانک معائنے کے دوران اسکول انتظامیہ کی جانب سے عدم تعاون کا مظاہرہ کیا گیا اور دفتری کام میں رکاوٹیں کھڑی کرنے کی کوشش کی گئی۔
غیر قانونی سرگرمیوں کا انکشاف
جانچ کے دوران کئی بے قاعدگیاں سامنے آئیں۔ اسکول پرنسپل کو طلب کر کے ریکارڈ طلب کیا گیا، جس کی جانچ کے بعد یہ انکشاف ہوا کہ ضلعی سطح پر اس اسکول کو چلانے کی کوئی اجازت یا منظوری نہیں دی گئی تھی۔ اس کے باوجود، انتظامیہ نے تعلیمی سیشن 2024-25 کا آغاز کر دیا تھا، جو کہ سراسر غیر قانونی ہے۔
طلباء کے مستقبل کے لیے ہدایات
ضلعی تعلیمی افسر نے اسکول کو فوری طور پر بند کرنے کا حکم دیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی، اسکول میں زیر تعلیم تمام طلباء کے مستقبل کو محفوظ بنانے کے لیے انہیں قریبی منظور شدہ اسکولوں میں منتقل کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ محکمہ نے اسکول انتظامیہ پر ایک لاکھ روپے کا جرمانہ عائد کرنے کی سفارش بھی کی ہے، جس کی فائل ڈائریکٹر پرائمری ایجوکیشن کو بھیج دی گئی ہے۔ یہ کارروائی ان تمام نجی اسکولوں کے لیے ایک انتباہ ہے جو بغیر سرکاری اجازت نامے کے تعلیمی نظام کے ساتھ کھلواڑ کر رہے ہیں۔
دستبرداری: یہ خبر دستیاب مقامی ذرائع کی بنیاد پر مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے تیار کی گئی ہے۔ AI سے غلطیاں ممکن ہیں اور اس مواد کی صحت یا اصلیت کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ TheAinak صرف معلومات کو یکجا کرتا ہے اور اس کے مواد کا ذمہ دار نہیں ہے۔ قارئین سے گزارش ہے کہ کسی بھی معلومات پر بھروسہ کرنے یا اس پر عمل کرنے سے پہلے اس کی آزادانہ طور پر تصدیق ضرور کر لیں۔
