مظفرپور ایس کے ایم سی ایچ میں زچگی کے دوران ماں اور نوزائیدہ کی موت، لواحقین کا ہنگامہ
ایس کے ایم سی ایچ میں طبی غفلت کا الزام
مظفرپور کے سری کرشنا میڈیکل کالج اینڈ ہاسپٹل (ایس کے ایم سی ایچ) کے زچہ و بچہ وارڈ میں ہفتے کی رات اس وقت کہرام مچ گیا جب ایک خاتون اور ان کے نوزائیدہ بچے کی موت واقع ہو گئی۔ ہتھوڑی تھانہ حلقہ کے اٹوا گاؤں کی رہائشی سبیتا کماری کو پہلی بار ماں بننے کی خوشی میں ہسپتال لایا گیا تھا، لیکن یہ خوشی ماتم میں بدل گئی۔
لواحقین کے سنگین الزامات
متوفیہ کے اہل خانہ نے ہسپتال انتظامیہ اور ڈیوٹی پر موجود طبی عملے پر سنگین لاپرواہی کا الزام عائد کیا ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ زچگی کے وقت وارڈ میں کوئی بھی سینئر ڈاکٹر موجود نہیں تھا اور نرسنگ اسٹاف نے بار بار بلانے کے باوجود مریضہ کی حالت پر توجہ نہیں دی۔ اہل خانہ کا کہنا ہے کہ صرف سبیتا ہی نہیں، بلکہ اس رات دیگر کئی نوزائیدہ بچوں کی بھی حالت تشویشناک تھی، لیکن عملے نے کسی کی فریاد نہیں سنی اور الٹا لواحقین کو ڈانٹ کر وہاں سے ہٹا دیا۔
انتظامیہ کا موقف
ہنگامہ آرائی بڑھنے کے بعد ہسپتال انتظامیہ نے پولیس کو طلب کیا، جس کے بعد ایس کے ایم سی ایچ او پی کی ٹیم اور ہیلتھ مینیجر سچن چنچل نے موقع پر پہنچ کر لوگوں کو پرسکون کرایا۔ ہیلتھ مینیجر نے اپنے بیان میں کہا کہ مریضہ کو انتہائی تشویشناک حالت میں ریفر کر کے لایا گیا تھا، جس کی وجہ سے علاج کے باوجود انہیں بچایا نہ جا سکا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس معاملے کی مکمل رپورٹ سپرنٹنڈنٹ کو سونپی جائے گی اور ان کی ہدایت پر ہی اگلی کارروائی کی جائے گی۔
سخت حفاظتی انتظامات
اس افسوسناک واقعے کے بعد ہسپتال کے زچہ و بچہ وارڈ کے باہر کشیدگی برقرار ہے اور کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے نمٹنے کے لیے اضافی پولیس فورس تعینات کر دی گئی ہے۔ مقامی لوگوں نے مطالبہ کیا ہے کہ اس معاملے کی اعلیٰ سطحی تحقیقات ہونی چاہیے تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ کیا واقعی طبی عملے کی کوتاہی سے یہ اموات ہوئیں۔
دستبرداری: یہ خبر دستیاب مقامی ذرائع کی بنیاد پر مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے تیار کی گئی ہے۔ AI سے غلطیاں ممکن ہیں اور اس مواد کی صحت یا اصلیت کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ TheAinak صرف معلومات کو یکجا کرتا ہے اور اس کے مواد کا ذمہ دار نہیں ہے۔ قارئین سے گزارش ہے کہ کسی بھی معلومات پر بھروسہ کرنے یا اس پر عمل کرنے سے پہلے اس کی آزادانہ طور پر تصدیق ضرور کر لیں۔
