مظفرپور اسپتال آتشزدگی: 95 سالہ خاتون نے اپنی جان بچائی، عملے کو بروقت اطلاع دے کر کئی زندگیاں بچانے میں مدد کی
مظفرپور، بہار: شہر کے معروف پرساد ہسپتال میں پیش آنے والے ایک دلخراش آتشزدگی کے واقعے میں، 95 سالہ رادھا دیوی نے غیر معمولی ہمت اور حاضر دماغی کا مظاہرہ کرتے ہوئے نہ صرف اپنی جان بچائی بلکہ ہسپتال کے عملے کو بروقت آگاہ کر کے کئی دیگر مریضوں کی جانیں بچانے میں بھی اہم کردار ادا کیا۔ یہ واقعہ جمعرات کی صبح پیش آیا جب ہسپتال کی پانچویں منزل پر واقع آئی سی یو میں شارٹ سرکٹ کے باعث آگ بھڑک اٹھی۔
آئی سی یو میں خوفناک منظر
مظفرپور کے مشہری بلاک کے چھپرا میگ گاؤں کی رہائشی رادھا دیوی کو بلڈ پریشر اور سانس لینے میں دشواری کے باعث آئی سی یو میں داخل کیا گیا تھا۔ جمعرات کی صبح جب وہ بیدار تھیں، اچانک آئی سی یو میں گھنا دھواں پھیلنا شروع ہو گیا۔ اس خوفناک صورتحال میں جہاں اچھے اچھوں کے ہوش اڑ جاتے ہیں، رادھا دیوی نے کمال ہمت کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے فوری طور پر اپنے منہ سے آکسیجن ماسک ہٹایا، ہاتھ میں لگی سلائن کی سوئی خود ہی کھینچ کر نکالی اور سٹریچر سے اٹھ کر باہر کی طرف بھاگیں۔
بروقت اطلاع اور امدادی کارروائیاں
چلنے پھرنے میں دشواری کے باوجود، رادھا دیوی گرتے پڑتے آئی سی یو سے باہر نکلیں اور وہاں ڈیوٹی پر موجود نرس کو اندر آگ لگنے کی اطلاع دی۔ ان کی اس بروقت اطلاع کے بعد ہسپتال انتظامیہ فوری حرکت میں آئی۔ دیگر مریضوں کو ہنگامی بنیادوں پر باہر نکالا گیا اور فائر بریگیڈ کو مطلع کیا گیا۔ اگر رادھا دیوی نے صحیح وقت پر ہمت نہ دکھائی ہوتی اور عملے کو آگاہ نہ کیا ہوتا تو یہ حادثہ اور بھی زیادہ تباہ کن ہو سکتا تھا۔
پانچ مریضوں کی المناک موت
اس المناک آتشزدگی میں دم گھٹنے اور جھلسنے کے باعث اب تک کل 5 مریضوں کی موت کی تصدیق ہو چکی ہے۔ ابتدائی طور پر چار اموات کی اطلاع تھی، لیکن بعد میں شدید جھلسی ہوئی ایک خاتون مریضہ چنچلا دیوی نے آسو ہسپتال میں علاج کے دوران دم توڑ دیا۔ مرنے والوں میں رامیشور سنگھ (70 سال)، انیتا دیوی (65 سال)، چنچلا دیوی (60 سال)، سشیل کمار (62 سال) اور ایک نامعلوم شخص شامل ہیں۔
انتظامیہ کا ردعمل اور امدادی پیکج
حادثے کی سنگینی کے پیش نظر، ضلع مجسٹریٹ سبرت کمار سین اور پولیس سپرنٹنڈنٹ سمیت تمام اعلیٰ حکام، ڈی ایس پیز اور فائر آفیسر اپنی ٹیموں کے ساتھ موقع پر پہنچے اور امدادی کارروائیوں کی نگرانی کی۔ ہسپتال میں بھاری پولیس فورس تعینات کی گئی ہے۔ ضلع مجسٹریٹ نے تمام 5 متوفین کے لواحقین کو سرکاری قوانین کے تحت 4-4 لاکھ روپے کی امدادی رقم دینے کا اعلان کیا ہے۔ اس کے علاوہ، دیگر ہسپتالوں میں منتقل کیے گئے تمام مریضوں کا علاج سرکاری خرچ پر کرانے اور ہسپتال کی بجلی کی وائرنگ اور فائر سیفٹی کے معیارات کی جانچ کے سخت احکامات جاری کیے گئے ہیں۔ بجلی کے محکمہ کے ایگزیکٹو انجینئر وجے کمار بھی اپنی ٹیم کے ساتھ لوڈ اور وائرنگ کا جائزہ لینے پہنچے ہیں۔ یہ واقعہ ہسپتالوں میں فائر سیفٹی کے انتظامات پر سنگین سوالات کھڑے کرتا ہے۔
دستبرداری: یہ خبر دستیاب مقامی ذرائع کی بنیاد پر مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے تیار کی گئی ہے۔ AI سے غلطیاں ممکن ہیں اور اس مواد کی صحت یا اصلیت کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ TheAinak صرف معلومات کو یکجا کرتا ہے اور اس کے مواد کا ذمہ دار نہیں ہے۔ قارئین سے گزارش ہے کہ کسی بھی معلومات پر بھروسہ کرنے یا اس پر عمل کرنے سے پہلے اس کی آزادانہ طور پر تصدیق ضرور کر لیں۔
