مقامی خبریں

مشرقی چمپارن: جہاں سے قانون بنتا ہے، وہیں آگ سے تحفظ کے انتظامات صفر

انتظامیہ کی اپنی عمارت ہی غیر محفوظ

مظفرپور میں پیش آئے حالیہ آتشزدگی کے المناک واقعے کے بعد مشرقی چمپارن میں آگ سے تحفظ کے انتظامات کی قلعی کھل گئی ہے۔ سب سے تشویشناک پہلو یہ ہے کہ ضلع کا کلکٹریٹ (سماہرنالیہ)، جہاں سے پورے ضلع کے لیے قوانین اور ضابطے جاری کیے جاتے ہیں، خود گزشتہ دو سالوں سے فائر سیفٹی آڈٹ سے محروم ہے۔

اسپتالوں اور ہوٹلوں میں سنگین کوتاہیاں

ضلع کے سرکاری اور نجی اسپتالوں کی حالت بھی کچھ مختلف نہیں ہے۔ شہر کی تنگ گلیوں میں قائم کئی کثیر المنزلہ عمارتوں میں اسپتال چلائے جا رہے ہیں، جن کے پاس فائر این او سی (NOC) کے نام پر محض خانہ پوری کی گئی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ آئی سی یو جیسے حساس مقامات پر آگ بجھانے کے لیے غلط آلات رکھے گئے ہیں، جو ہنگامی صورتحال میں بے اثر ثابت ہو سکتے ہیں۔

بجلی کے تاروں کا جال اور حادثات کا خطرہ

شہر کے مصروف ترین علاقوں جیسے مینا بازار، سونار پٹی، اور چھتونی روڈ پر بجلی کے تاروں کا بے ہنگم جال کسی بڑے حادثے کو دعوت دے رہا ہے۔ چند مقامات پر تو ٹرانسفارمر براہ راست عوامی راستوں اور اے ٹی ایم کے دروازوں پر نصب ہیں، جس سے ہر وقت خطرہ منڈلاتا رہتا ہے۔

محکمہ فائر سروس کی نئی حکمت عملی

مظفرپور واقعے کے بعد محکمہ فائر سروس اب حرکت میں آیا ہے۔ حکام نے تمام سرکاری و نجی اداروں، اسپتالوں اور ہوٹلوں کو سات دن کے اندر الیکٹرک لوڈ اینالائسز رپورٹ جمع کرانے کا سخت حکم دیا ہے۔ محکمہ اب خود بھی بڑی عمارتوں کا معائنہ کرے گا اور ضوابط کی خلاف ورزی کرنے والے اداروں کو سیل کرنے کی کارروائی شروع کی جائے گی۔

ضلع انتظامیہ کی جانب سے اب تمام سرکاری عمارتوں کے آڈٹ کے لیے بھی مراسلے بھیجے جا رہے ہیں تاکہ مستقبل میں کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔


دستبرداری: یہ خبر دستیاب مقامی ذرائع کی بنیاد پر مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے تیار کی گئی ہے۔ AI سے غلطیاں ممکن ہیں اور اس مواد کی صحت یا اصلیت کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ TheAinak صرف معلومات کو یکجا کرتا ہے اور اس کے مواد کا ذمہ دار نہیں ہے۔ قارئین سے گزارش ہے کہ کسی بھی معلومات پر بھروسہ کرنے یا اس پر عمل کرنے سے پہلے اس کی آزادانہ طور پر تصدیق ضرور کر لیں۔

😃+

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button