شہید خدیرام بوس کے اعزاز میں مدنی پور سے مظفرپور تک خصوصی ٹرین چلانے کا مطالبہ
مظفرپور: شہید خدیرام بوس کی یادوں کو تازہ کرنے اور ان کے تاریخی مقامات کو ملک بھر کے لوگوں تک پہنچانے کے لیے ایک اہم مطالبہ سامنے آیا ہے۔ مغربی بنگال سے آئے محققین اور مصنفین کے ایک وفد نے، جس کی قیادت ارندم بھومک کر رہے تھے، مدنی پور سے مظفرپور تک ایک خصوصی ٹرین چلانے کی درخواست کی ہے۔ اس ٹرین کا نام ‘خدیرام بوس ایکسپریس’ رکھنے کی تجویز دی گئی ہے تاکہ دونوں تاریخی شہروں کو جوڑا جا سکے اور شہید کے ورثے کو اجاگر کیا جا سکے۔
وفد نے پیر کو پُوسا روڈ بازار میں واقع شہید خدیرام بوس کے یادگار مقام پر پہنچ کر انہیں خراج عقیدت پیش کیا۔ اس وفد میں ارندم بھومک کے ساتھ رنکی بھومک، ماسٹر ارین بھومک، ماسٹر ایرک بھومک، سبرت ڈے، مدنی پور سنٹرل ریفارم ہوم کے فلاحی افسر انیرودھ گھوش، اور ڈاکٹر بھوانی پرساد دیب شامل تھے۔ اس کے علاوہ، ہندوستانی فضائیہ کے چار ریٹائرڈ افسران بھی اس وفد کا حصہ تھے۔ یادگار کمپلیکس پہنچنے پر، وفد کے اراکین نے شہید خدیرام بوس کے مجسمے پر پھول چڑھائے اور انہیں خراج تحسین پیش کیا۔
اس موقع پر پنچایت کی سربراہ پنکی دیوی، بیتندر گپتا اور دیگر مقامی افراد نے مہمانوں کا پگ اور چادر سے استقبال کیا۔ ارندم بھومک نے میڈیا کو بتایا کہ ان کا یہ دورہ بہار شہید خدیرام بوس سے متعلق دو اہم مطالبات کو لے کر ہے۔ ان کا پہلا اور سب سے اہم مطالبہ یہی ہے کہ مغربی بنگال کے مدنی پور سے بہار کے مظفرپور تک ‘خدیرام بوس ایکسپریس’ کے نام سے ایک خصوصی ٹرین چلائی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس سے نہ صرف دونوں تاریخی شہر آپس میں جڑیں گے بلکہ ملک بھر کے لوگوں کو شہید خدیرام بوس سے جڑے تاریخی مقامات کو جاننے اور دیکھنے کا موقع بھی ملے گا۔
اس مطالبے کو ریلوے وزیر کے دفتر تک پہنچانے کے لیے مدنی پور کے رکن پارلیمنٹ اور رکن اسمبلی کو تحریری درخواستیں دی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ، بہار کے آبی وسائل کے وزیر ڈاکٹر راج بھوشن چودھری اور سیاحت کے وزیر کیدار پرساد گپتا کو بھی درخواستیں پیش کی گئی ہیں۔ یہ اقدام شہید خدیرام بوس کی قربانیوں کو یاد رکھنے اور ان کے نظریات کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک کوشش ہے۔ یہ ٹرین سروس نہ صرف سیاحت کو فروغ دے گی بلکہ دونوں ریاستوں کے درمیان ثقافتی اور تاریخی روابط کو بھی مضبوط کرے گی۔
دستبرداری: یہ خبر دستیاب مقامی ذرائع کی بنیاد پر مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے تیار کی گئی ہے۔ AI سے غلطیاں ممکن ہیں اور اس مواد کی صحت یا اصلیت کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ TheAinak صرف معلومات کو یکجا کرتا ہے اور اس کے مواد کا ذمہ دار نہیں ہے۔ قارئین سے گزارش ہے کہ کسی بھی معلومات پر بھروسہ کرنے یا اس پر عمل کرنے سے پہلے اس کی آزادانہ طور پر تصدیق ضرور کر لیں۔
