بھرگاما میں بجلی کا بحران: معمولی ہواؤں کے ساتھ ہی اندھیرا چھا جاتا ہے
بھرگاما کے مکینوں کی دہائی: بجلی کی غیر اعلانیہ کٹوتی سے معمولات زندگی درہم برہم
بھرگاما کے رہائشی گزشتہ طویل عرصے سے بجلی کی ناقص فراہمی کے سنگین مسائل سے دوچار ہیں۔ علاقے میں بجلی کا نظام اس قدر کمزور ہو چکا ہے کہ معمولی سی ہوا یا ہلکی بارش ہوتے ہی بجلی کی فراہمی گھنٹوں کے لیے معطل ہو جاتی ہے۔ اس صورتحال نے مقامی آبادی میں شدید غم و غصے کی لہر پیدا کر دی ہے، جہاں عوام اب عملی اقدامات کے منتظر ہیں۔
پاور گرڈ کا دیرینہ مطالبہ
مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ بھرگاما اور رانی گنج کے علاقوں میں بجلی کی اس ابتر صورتحال کی بنیادی وجہ مقامی سطح پر پاور گرڈ کا نہ ہونا ہے۔ فی الحال، ان علاقوں کو فاربیس گنج پاور گرڈ سے بجلی فراہم کی جاتی ہے۔ چونکہ بجلی کی ترسیل طویل فاصلے سے ہوتی ہے، اس لیے معمولی تکنیکی خرابی یا تیز ہواؤں کے چلتے ہی بجلی کا نظام ٹھپ ہو جاتا ہے۔ یہ مسئلہ اب ایک معمول بن چکا ہے، جس سے نہ صرف گھریلو صارفین بلکہ کاروباری طبقہ بھی بری طرح متاثر ہو رہا ہے۔
صنعتی اور سماجی زندگی پر اثرات
بھرگاما بلاک میں کئی رائس ملز اور چھوٹے پیمانے پر قائم دیگر صنعتی یونٹس موجود ہیں، جن کا انحصار بجلی کی بلاتعطل فراہمی پر ہے۔ بجلی کی آنکھ مچولی کے باعث ان صنعتوں کی پیداواری صلاحیت متاثر ہو رہی ہے، جس سے مقامی معیشت کو نقصان پہنچ رہا ہے۔ نوجوان سماجی کارکن سمن سنگھ سمیت دیگر مقامی افراد کا مطالبہ ہے کہ حکومت اور متعلقہ محکمہ بجلی اس سنگین مسئلے کا مستقل حل نکالے۔
نمائندوں کی خاموشی پر سوالات
عوام کا شکوہ ہے کہ پاور گرڈ کے قیام کے لیے بارہا مطالبات کیے جانے کے باوجود اب تک نہ تو عوامی نمائندوں نے اس جانب توجہ دی ہے اور نہ ہی محکمہ بجلی کے حکام نے اس مسئلے کو حل کرنے کی کوئی سنجیدہ کوشش کی ہے۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ اگر جلد ہی پاور گرڈ کی تعمیر کا کام شروع نہ کیا گیا تو وہ اپنے احتجاج کا دائرہ وسیع کرنے پر مجبور ہوں گے۔ بجلی کی یہ غیر یقینی صورتحال اب بھرگاما کے شہریوں کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے، جس کا فوری تدارک ناگزیر ہے۔
دستبرداری: یہ خبر دستیاب مقامی ذرائع کی بنیاد پر مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے تیار کی گئی ہے۔ AI سے غلطیاں ممکن ہیں اور اس مواد کی صحت یا اصلیت کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ TheAinak صرف معلومات کو یکجا کرتا ہے اور اس کے مواد کا ذمہ دار نہیں ہے۔ قارئین سے گزارش ہے کہ کسی بھی معلومات پر بھروسہ کرنے یا اس پر عمل کرنے سے پہلے اس کی آزادانہ طور پر تصدیق ضرور کر لیں۔
