قومی خبریں

آسام میں یکساں سول کوڈ کی دستک: شادی، طلاق اور لیو-ان ریلیشن شپ کے لیے نئے ضابطے

آسام میں قانون سازی کا نیا موڑ

آسام کی ریاستی اسمبلی میں یکساں سول کوڈ (UCC) سے متعلق بل پیش کر دیا گیا ہے، جس کے بعد ریاست میں سماجی قوانین اور خاندانی معاملات کے حوالے سے ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے۔ اس بل کا مقصد ریاست میں شادی، طلاق، وراثت اور دیگر نجی معاملات کے لیے ایک یکساں قانونی ڈھانچہ تیار کرنا ہے۔ حکومت کا دعویٰ ہے کہ یہ اقدام سماجی انصاف اور صنفی مساوات کو یقینی بنانے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔

بل کی اہم خصوصیات

  • کثیر ازدواجی پر پابندی: نئے مسودے کے تحت ایک سے زائد شادی کرنے پر مکمل پابندی عائد کی گئی ہے۔ قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کے لیے سخت سزاؤں کا اہتمام کیا گیا ہے، جس میں سات سال تک کی قید شامل ہو سکتی ہے۔
  • شادی اور طلاق کا لازمی اندراج: اب ریاست میں ہر شادی اور طلاق کا سرکاری طور پر اندراج کروانا لازمی ہوگا۔ اس اقدام کا مقصد قانونی پیچیدگیوں کو ختم کرنا اور خواتین کے حقوق کا تحفظ کرنا ہے۔
  • لیو-ان ریلیشن شپ کے لیے ضابطے: بل میں لیو-ان ریلیشن شپ (Live-in Relationship) کے لیے بھی رجسٹریشن کو لازمی قرار دیا گیا ہے۔ اس کے تحت جوڑوں کو اپنے تعلقات کی اطلاع متعلقہ حکام کو دینی ہوگی، تاکہ مستقبل میں کسی بھی تنازعہ کی صورت میں قانونی تحفظ حاصل رہ سکے۔

سیاسی اور سماجی تناظر

آسام ملک کی ان چند ریاستوں میں شامل ہو گیا ہے جنہوں نے یکساں سول کوڈ کی سمت میں ٹھوس پیش قدمی کی ہے۔ اس سے قبل اتراکھنڈ اور گجرات میں بھی اس طرح کے اقدامات دیکھنے میں آئے ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ آسام کا یہ بل اپنی نوعیت کے لحاظ سے دیگر ریاستوں سے کچھ مختلف ہے، جس میں مقامی ثقافتی اور سماجی پہلوؤں کو مدنظر رکھنے کی کوشش کی گئی ہے۔

حزب اختلاف کی جانب سے اس بل پر ملے جلے ردعمل سامنے آ رہے ہیں۔ جہاں کچھ حلقے اسے جدید دور کی ضرورت قرار دے رہے ہیں، وہیں کچھ اسے نجی معاملات میں ریاستی مداخلت کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ آنے والے دنوں میں اسمبلی کے اندر اس بل پر تفصیلی بحث متوقع ہے، جس کے بعد ہی اس کے نفاذ کی حتمی تاریخ اور طریقہ کار واضح ہو سکے گا۔ فی الحال، ریاست بھر میں اس بل کے مضمرات پر عوامی سطح پر چہ مگوئیاں جاری ہیں۔


دستبرداری: یہ خبر دستیاب مقامی ذرائع کی بنیاد پر مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے تیار کی گئی ہے۔ AI سے غلطیاں ممکن ہیں اور اس مواد کی صحت یا اصلیت کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ TheAinak صرف معلومات کو یکجا کرتا ہے اور اس کے مواد کا ذمہ دار نہیں ہے۔ قارئین سے گزارش ہے کہ کسی بھی معلومات پر بھروسہ کرنے یا اس پر عمل کرنے سے پہلے اس کی آزادانہ طور پر تصدیق ضرور کر لیں۔

😃+

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button