ویشالی: ‘دی دی کی رسوئی’ کا کمال، محض 60 روپے میں مل رہا ہے معیاری اور پیٹ بھر کھانا
مہنگائی کے دور میں عام آدمی کے لیے بڑی راحت
آج کے دور میں جب کھانے پینے کی اشیاء کی قیمتیں آسمان چھو رہی ہیں، ویشالی ضلع سے ایک ایسی خبر سامنے آئی ہے جو نہ صرف غریبوں کے لیے بلکہ عام لوگوں کے لیے بھی کسی نعمت سے کم نہیں ہے۔ یہاں ‘دی دی کی رسوئی’ کے تحت ایک ایسی پہل کی گئی ہے جس نے لوگوں کے لیے پیٹ بھر کھانا کھانا آسان بنا دیا ہے۔ اب صرف 60 روپے میں یہاں معیاری اور تازہ کھانا دستیاب ہے۔
کیا ہے ‘دی دی کی رسوئی’ کا تصور؟
یہ منصوبہ حکومت کی جانب سے چلائی جانے والی ایک اہم اسکیم ہے، جس کا مقصد معاشرے کے پسماندہ طبقات اور کم آمدنی والے لوگوں تک سستا اور صحت بخش کھانا پہنچانا ہے۔ اس رسوئی کا انتظام مقامی خواتین کے ہاتھوں میں ہے، جو خود کفالت کی ایک بہترین مثال پیش کر رہی ہیں۔
- کھانے کی قیمت صرف 60 روپے رکھی گئی ہے۔
- کھانے میں دال، چاول، سبزی اور دیگر غذائی اجزاء شامل ہوتے ہیں۔
- صفائی اور معیار کا خاص خیال رکھا جاتا ہے۔
- مقامی خواتین کو روزگار کے مواقع فراہم ہو رہے ہیں۔
کون اٹھا رہا ہے فائدہ؟
اس سہولت کا سب سے زیادہ فائدہ ان لوگوں کو ہو رہا ہے جو روزگار کی تلاش میں گھر سے دور رہتے ہیں یا جن کی یومیہ آمدنی بہت کم ہے۔ ہسپتالوں میں آنے والے مریضوں کے لواحقین، مزدور طبقہ اور مسافروں کے لیے یہ رسوئی کسی سہارے سے کم نہیں ہے۔ یہاں کا ماحول گھر جیسا ہے اور کھانے کا معیار بازار کے مہنگے ہوٹلوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ بہتر اور محفوظ ہے۔
خود کفالت کی جانب ایک قدم
اس پہل کی سب سے خاص بات یہ ہے کہ یہ صرف ایک کینٹین نہیں ہے، بلکہ یہ خواتین کو بااختیار بنانے کا ایک ذریعہ بھی ہے۔ دیہی علاقوں کی خواتین جب خود کھانا تیار کر کے اسے لوگوں تک پہنچاتی ہیں، تو اس سے ان کی معاشی حالت میں بھی بہتری آتی ہے۔ ویشالی میں اس منصوبے کی کامیابی نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ اگر نیت صاف ہو تو کم بجٹ میں بھی بڑی تبدیلی لائی جا سکتی ہے۔ آنے والے وقت میں اس طرح کے مراکز کی تعداد بڑھانے کی ضرورت ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ اس کا فائدہ اٹھا سکیں۔
دستبرداری: یہ خبر دستیاب مقامی ذرائع کی بنیاد پر مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے تیار کی گئی ہے۔ AI سے غلطیاں ممکن ہیں اور اس مواد کی صحت یا اصلیت کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ TheAinak صرف معلومات کو یکجا کرتا ہے اور اس کے مواد کا ذمہ دار نہیں ہے۔ قارئین سے گزارش ہے کہ کسی بھی معلومات پر بھروسہ کرنے یا اس پر عمل کرنے سے پہلے اس کی آزادانہ طور پر تصدیق ضرور کر لیں۔
