منگیر میں 1.24 لاکھ پنشن یافتگان کے کھاتوں میں براہ راست 18 کروڑ روپے سے زائد کی منتقلی
منگیر: بہار حکومت کی سماجی تحفظ پنشن اسکیموں کے تحت منگیر ضلع کے 1,24,879 مستحقین کے لیے جمعہ کا دن خوشیوں بھرا رہا۔ وزیراعلیٰ سمراٹ چودھری نے ایک مرکزی تقریب کے دوران پنشن یافتگان کے کھاتوں میں بڑھی ہوئی شرح پر رقم براہ راست منتقل کی، جس کا براہ راست نشریات ضلع کلکٹریٹ کے مکالمہ ہال میں دکھایا گیا۔ اس موقع پر ضلع مجسٹریٹ نکھل دھنراج کی موجودگی نے تقریب کو مزید باوقار بنا دیا۔
اس اہم تقریب میں ضلع کے کئی اعلیٰ افسران اور بڑی تعداد میں پنشن یافتگان نے شرکت کی۔ یہ اقدام بہار حکومت کی جانب سے سماجی تحفظ کو یقینی بنانے اور مستحق افراد کو مالی امداد فراہم کرنے کے عزم کا حصہ ہے۔ منگیر ضلع میں فی الحال چھ مختلف قسم کی سماجی تحفظ پنشن اسکیمیں فعال ہیں، جن کا مقصد معاشرے کے کمزور طبقات کو سہارا دینا ہے۔
جون 2026 کے لیے بھیجی گئی پنشن کی یہ رقم براہ راست فائدہ منتقلی (DBT) کے ذریعے مستحقین کے بینک کھاتوں میں پہنچائی گئی ہے۔ اب تمام مستحقین کو 1,100 روپے ماہانہ کی بڑھی ہوئی شرح سے ادائیگی کی جا رہی ہے، جو پہلے کی شرح سے زیادہ ہے۔ اس مد میں ضلع کے مستحقین کے لیے کل 18,10,62,600 روپے کی خطیر رقم براہ راست ان کے بینک کھاتوں میں منتقل کی گئی ہے۔ یہ رقم نہ صرف پنشن یافتگان کی مالی حالت کو بہتر بنائے گی بلکہ انہیں روزمرہ کے اخراجات پورے کرنے میں بھی مدد دے گی۔
تقریب کے دوران، وزیراعلیٰ کا پیغام ورچوئل موڈ کے ذریعے براہ راست مستحقین کو دکھایا گیا، جس سے انہیں حکومتی اقدامات اور ان کے فوائد کے بارے میں براہ راست آگاہی ملی۔ اس موقع پر ڈپٹی ڈویلپمنٹ کمشنر اجیت کمار اور اسسٹنٹ ڈائریکٹر (سماجی تحفظ) راجیو رنجن سمیت کئی دیگر سینئر افسران بھی موجود تھے۔
تفصیلات کے مطابق، اندرا گاندھی قومی بڑھاپا پنشن اسکیم کے تحت 28,817 افراد کو فائدہ پہنچا ہے۔ یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ حکومت کی یہ اسکیمیں معاشرے کے مختلف طبقات تک پہنچ رہی ہیں اور انہیں مالی تحفظ فراہم کر رہی ہیں۔ یہ اقدام منگیر کے بزرگ شہریوں اور دیگر مستحق افراد کے لیے ایک بڑی راحت ہے۔
دستبرداری: یہ خبر دستیاب مقامی ذرائع کی بنیاد پر مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے تیار کی گئی ہے۔ AI سے غلطیاں ممکن ہیں اور اس مواد کی صحت یا اصلیت کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ TheAinak صرف معلومات کو یکجا کرتا ہے اور اس کے مواد کا ذمہ دار نہیں ہے۔ قارئین سے گزارش ہے کہ کسی بھی معلومات پر بھروسہ کرنے یا اس پر عمل کرنے سے پہلے اس کی آزادانہ طور پر تصدیق ضرور کر لیں۔
