مقامی خبریں

مظفرپور: ہیلتھ اینڈ ویلنس سینٹرز کی خستہ حالی، 60 مریضوں کا ہدف بھی پورا کرنے میں ناکام

صحت سہولیات کا بحران: ویلنس سینٹرز پر مریضوں کی عدم دلچسپی

مظفرپور میں قائم ہیلتھ اینڈ ویلنس سینٹرز (سابقہ اے پی ایچ سی) اپنی افادیت ثابت کرنے میں بری طرح ناکام نظر آ رہے ہیں۔ محکمہ صحت کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق، ان مراکز پر آنے والے مریضوں کی تعداد انتہائی مایوس کن ہے، جس کے پیش نظر محکمہ نے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔

مقررہ ہدف سے کوسوں دور

حکومتی ہدایات کے تحت ہر ویلنس سینٹر پر ماہانہ کم از کم 60 مریضوں کا علاج کیا جانا لازمی ہے، تاہم زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں۔ ضلع میں موجود 80 ویلنس سینٹرز کی کارکردگی کا جائزہ لینے پر معلوم ہوا کہ مارچ اور اپریل کے مہینوں میں یہاں آنے والے مریضوں کی شرح بمشکل ایک فیصد رہی ہے۔ اس ناقص کارکردگی کی وجہ سے مظفرپور کو ان اضلاع کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے جنہیں ‘ریڈ زون’ قرار دیا گیا ہے۔

بنیادی سہولیات کا فقدان

مریضوں کے نہ آنے کی ایک بڑی وجہ ان مراکز پر طبی سہولیات کا فقدان ہے۔ رپورٹ کے مطابق، ان سینٹرز پر پیتھالوجی جانچ کی سہولت میسر نہیں ہے، جس کی وجہ سے مریضوں کو مجبورا نجی لیبز کا رخ کرنا پڑتا ہے۔ اس کے علاوہ، عملے کی غیر حاضری بھی ایک سنگین مسئلہ بن چکی ہے۔

عملے کی لاپرواہی اور انتظامی کارروائی

ویلنس سینٹرز پر تعینات کمیونٹی ہیلتھ آفیسرز (سی ایچ او) کے وقت پر نہ پہنچنے کی شکایات عام ہیں۔ ضلع میں 50 سے زائد ایسے افسران کی نشاندہی کی گئی ہے جو اپنی ڈیوٹی کے اوقات (صبح 9 بجے سے شام 5 بجے تک) کی پابندی نہیں کر رہے۔ سول سرجن نے تمام پی ایچ سی انچارجز کو ہدایت دی ہے کہ وہ اس معاملے میں سختی برتیں اور عملے کی حاضری کو یقینی بنائیں۔

محکمہ صحت کے علاقائی نائب ڈائریکٹر ڈاکٹر شنکر رجک کا کہنا ہے کہ ان مراکز پر مریضوں کی کم تعداد کی وجوہات کا تفصیلی جائزہ لیا جا رہا ہے اور متعلقہ حکام سے جواب طلبی کی جائے گی۔ اے این ایم اور سی ایچ او کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ دیہی علاقوں میں لوگوں کو ان مراکز تک لانے کے لیے متحرک کردار ادا کریں۔


دستبرداری: یہ خبر دستیاب مقامی ذرائع کی بنیاد پر مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے تیار کی گئی ہے۔ AI سے غلطیاں ممکن ہیں اور اس مواد کی صحت یا اصلیت کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ TheAinak صرف معلومات کو یکجا کرتا ہے اور اس کے مواد کا ذمہ دار نہیں ہے۔ قارئین سے گزارش ہے کہ کسی بھی معلومات پر بھروسہ کرنے یا اس پر عمل کرنے سے پہلے اس کی آزادانہ طور پر تصدیق ضرور کر لیں۔

😃+

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button