مظفرپور ہسپتال آتشزدگی: وزیر صحت کی خاموشی پر اپوزیشن کا حملہ، تحقیقات کا حکم
مظفرپور سانحہ: انتظامیہ متحرک، وزیر صحت نے دی تحقیقات کی یقین دہانی
مظفرپور کے ایک نجی ہسپتال میں پیش آئے المناک آتشزدگی کے واقعے کے بعد پورے علاقے میں سوگ کی فضا ہے۔ اس حادثے میں کئی مریضوں کی جانیں ضائع ہوئیں، جس کے بعد سے مقامی سطح پر غم و غصہ پایا جا رہا ہے۔ واقعے کے کئی گھنٹوں بعد وزیر صحت نشانت کمار نے اس معاملے پر اپنی خاموشی توڑتے ہوئے گہرے دکھ اور صدمے کا اظہار کیا ہے۔
وزیر صحت نے سوشل میڈیا کے ذریعے اپنے پیغام میں کہا کہ اس دلخراش واقعے سے متاثرہ خاندانوں کے ساتھ ان کی مکمل ہمدردی ہے۔ انہوں نے ضلعی انتظامیہ کو سخت ہدایات جاری کی ہیں کہ زخمیوں کے علاج معالجے میں کوئی کوتاہی نہ برتی جائے اور انہیں ہر ممکن طبی سہولیات فراہم کی جائیں۔ وزیر نے واضح کیا ہے کہ اس پورے معاملے کی اعلیٰ سطحی تحقیقات کی جائیں گی اور جو بھی ذمہ دار پایا گیا، اس کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
سیاسی ہلچل اور اپوزیشن کے سوالات
اگرچہ وزیر صحت نے واقعے کے بعد تحقیقات کا عندیہ دیا ہے، تاہم ان کی ابتدائی خاموشی پر اپوزیشن جماعتوں نے شدید تنقید کی ہے۔ آر جے ڈی نے وزیر صحت کے رویے کو غیر ذمہ دارانہ قرار دیتے ہوئے سوال اٹھایا ہے کہ اتنے بڑے سانحے کے باوجود وزیر کا فوری ردعمل نہ دینا اور جائے وقوعہ کا دورہ نہ کرنا ان کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔ اپوزیشن کا کہنا ہے کہ اس طرح کے حساس معاملات پر وزیر کی خاموشی عوام کے اعتماد کو ٹھیس پہنچاتی ہے۔
مقامی سطح پر بھی لوگ یہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ نجی ہسپتالوں میں آگ سے بچاؤ کے انتظامات کی جانچ پڑتال ہونی چاہیے تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات کا اعادہ نہ ہو۔ انتظامیہ کی جانب سے امدادی کاموں کو جنگی بنیادوں پر مکمل کرنے کی یقین دہانی کرائی گئی ہے، جبکہ ہسپتال انتظامیہ کی لاپرواہی کے پہلوؤں کو بھی تحقیقات کا حصہ بنایا جا رہا ہے۔
اس واقعے نے پورے بہار کے نجی ہسپتالوں میں حفاظتی اقدامات پر ایک بڑی بحث چھیڑ دی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ تحقیقاتی رپورٹ کب تک سامنے آتی ہے اور کیا متاثرہ خاندانوں کو انصاف مل پاتا ہے یا نہیں۔
دستبرداری: یہ خبر دستیاب مقامی ذرائع کی بنیاد پر مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے تیار کی گئی ہے۔ AI سے غلطیاں ممکن ہیں اور اس مواد کی صحت یا اصلیت کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ TheAinak صرف معلومات کو یکجا کرتا ہے اور اس کے مواد کا ذمہ دار نہیں ہے۔ قارئین سے گزارش ہے کہ کسی بھی معلومات پر بھروسہ کرنے یا اس پر عمل کرنے سے پہلے اس کی آزادانہ طور پر تصدیق ضرور کر لیں۔