مقامی خبریں

مظفرپور: ہائی وے پر موٹر سائیکل کی ٹکر سے دیہی معالج ہلاک، بائیک سوار فرار

مظفرپور: کانٹی میں المناک حادثہ

مظفرپور کے کانٹی علاقے میں ایک دل دہلا دینے والے سڑک حادثے میں ایک دیہی معالج اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ یہ واقعہ این ایچ 27 پر اکرہا ڈھالا کے قریب پیش آیا جہاں ایک تیز رفتار موٹر سائیکل نے ان کی بائیک کو ٹکر مار دی۔ متوفی کی شناخت 55 سالہ ششی رنجن سنگھ کے نام سے ہوئی ہے۔ حادثے کے بعد موٹر سائیکل پر سوار تینوں افراد اپنی بائیک چھوڑ کر موقع سے فرار ہو گئے۔

پیر کو پیش آنے والے اس حادثے کی اطلاع ملتے ہی پولیس فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچی اور حادثے کا شکار ہونے والی موٹر سائیکل کو اپنی تحویل میں لے لیا۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق، ششی رنجن سنگھ اپنی موٹر سائیکل پر کانٹی کی جانب جا رہے تھے کہ اسی دوران مخالف سمت سے آنے والی ایک تیز رفتار موٹر سائیکل نے انہیں زوردار ٹکر مار دی۔ ٹکر اتنی شدید تھی کہ ششی رنجن سنگھ کو شدید چوٹیں آئیں اور وہ موقع پر ہی گر گئے۔

شدید زخمی حالت میں ہسپتال منتقلی اور موت

حادثے کے فوری بعد مقامی افراد اور اہل خانہ کی مدد سے ششی رنجن سنگھ کو ایک نجی ہسپتال منتقل کیا گیا، جہاں ڈاکٹروں نے انہیں مردہ قرار دے دیا۔ اس خبر سے اہل خانہ پر غم کا پہاڑ ٹوٹ پڑا اور علاقے میں سوگ کی فضا چھا گئی۔ پولیس نے متوفی کی لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے بھیجا اور بعد ازاں قانونی کارروائی مکمل کرنے کے بعد اہل خانہ کے حوالے کر دیا۔

پولیس حکام نے بتایا کہ فرار ہونے والے موٹر سائیکل سواروں کی تلاش جاری ہے۔ اہل خانہ کی جانب سے باضابطہ درخواست موصول ہونے کے بعد اس معاملے میں مزید قانونی کارروائی کی جائے گی۔ پولیس نے عوام سے اپیل کی ہے کہ اگر کسی کے پاس اس حادثے سے متعلق کوئی معلومات ہو تو وہ پولیس سے رابطہ کرے۔ اس واقعے نے ایک بار پھر سڑکوں پر تیز رفتاری اور لاپرواہی سے گاڑی چلانے کے سنگین نتائج کو اجاگر کیا ہے۔ مقامی انتظامیہ نے شہریوں کو ٹریفک قوانین کی پاسداری کرنے اور احتیاط سے گاڑی چلانے کی تلقین کی ہے۔

ششی رنجن سنگھ کا شمار علاقے کے معروف اور قابل احترام دیہی معالجین میں ہوتا تھا۔ ان کی موت سے علاقے میں ایک خلا پیدا ہو گیا ہے جسے پر کرنا مشکل ہوگا۔ ان کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔


دستبرداری: یہ خبر دستیاب مقامی ذرائع کی بنیاد پر مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے تیار کی گئی ہے۔ AI سے غلطیاں ممکن ہیں اور اس مواد کی صحت یا اصلیت کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ TheAinak صرف معلومات کو یکجا کرتا ہے اور اس کے مواد کا ذمہ دار نہیں ہے۔ قارئین سے گزارش ہے کہ کسی بھی معلومات پر بھروسہ کرنے یا اس پر عمل کرنے سے پہلے اس کی آزادانہ طور پر تصدیق ضرور کر لیں۔

😃+

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button