مقامی خبریں

مظفرپور کے نجی ہسپتال میں المناک آتشزدگی: آئی سی یو میں دم گھٹنے سے 5 افراد کی موت

مظفرپور میں ہسپتال کے اندر کہرام

بہار کے ضلع مظفرپور میں واقع پرساد ہسپتال میں پیش آنے والے ایک ہولناک واقعے نے پورے علاقے کو سوگوار کر دیا ہے۔ جمعرات کی علی الصبح تقریباً دو بجے ہسپتال کی بالائی منزل پر واقع انتہائی نگہداشت یونٹ (آئی سی یو) میں اچانک آگ بھڑک اٹھی، جس نے دیکھتے ہی دیکھتے پورے وارڈ کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ اس حادثے کے نتیجے میں اب تک پانچ افراد کی موت کی تصدیق ہو چکی ہے، جبکہ متعدد دیگر افراد کے متاثر ہونے کی اطلاعات ہیں۔

ہلاکتوں کی شناخت اور صورتحال

حادثے میں جان گنوانے والوں میں اورائی کے 30 سالہ ششانک کمار، کتھیا کی گیتا دیوی، تریانی-شیہر کے 57 سالہ ادے کمار، کرشن نندن اور چنچلا کماری شامل ہیں۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق، آگ لگنے کے بعد ہسپتال کے اندر شدید دھواں پھیل گیا، جس کی وجہ سے مریضوں اور ان کے تیمارداروں میں شدید افراتفری مچ گئی۔ ہسپتال کے عملے اور وہاں موجود لوگوں کے لیے اپنی جان بچانا مشکل ہو گیا تھا۔

انتظامیہ کا ردعمل

واقعے کی اطلاع ملتے ہی فائر بریگیڈ کی کئی گاڑیاں موقع پر پہنچ گئیں اور آگ بجھانے کا کام شروع کر دیا گیا۔ ضلعی مجسٹریٹ سبرت کمار سین نے جائے وقوعہ کا دورہ کیا اور صورتحال کا جائزہ لیا۔ انہوں نے بتایا کہ ہسپتال انتظامیہ کی جانب سے لاپرواہی برتنے کی شکایات موصول ہوئی ہیں، جس کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔ ضلعی انتظامیہ کی ٹیمیں قریبی ہسپتالوں میں بھی رابطے میں ہیں تاکہ وہاں منتقل کیے گئے مریضوں کی حالت کے بارے میں معلومات حاصل کی جا سکیں۔

تحقیقات کا دائرہ کار

فی الحال، انتظامیہ کی اولین ترجیح بچائے گئے مریضوں کو بہتر طبی امداد فراہم کرنا ہے۔ آگ لگنے کی وجوہات کا تعین کرنے کے لیے تکنیکی ٹیمیں کام کر رہی ہیں۔ ہسپتال میں حفاظتی انتظامات کے فقدان پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں، اور یہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اگر آگ بجھانے کے آلات بروقت کام کرتے تو شاید قیمتی جانیں بچائی جا سکتی تھیں۔ مقامی انتظامیہ نے یقین دہانی کرائی ہے کہ اس معاملے میں جو بھی قصوروار پایا گیا، اس کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔


دستبرداری: یہ خبر دستیاب مقامی ذرائع کی بنیاد پر مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے تیار کی گئی ہے۔ AI سے غلطیاں ممکن ہیں اور اس مواد کی صحت یا اصلیت کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ TheAinak صرف معلومات کو یکجا کرتا ہے اور اس کے مواد کا ذمہ دار نہیں ہے۔ قارئین سے گزارش ہے کہ کسی بھی معلومات پر بھروسہ کرنے یا اس پر عمل کرنے سے پہلے اس کی آزادانہ طور پر تصدیق ضرور کر لیں۔

😃+

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button