مظفرپور ہسپتال آتشزدگی: صحت وزیر کے استعفے کا مطالبہ، سیاسی ہلچل تیز
مظفرپور میں ہولناک حادثہ، پانچ اموات کے بعد سیاست گرم
مظفرپور کے ایک نجی ہسپتال میں پیش آنے والے المناک آتشزدگی کے واقعے نے پورے بہار کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ جمعرات کی صبح پیش آئے اس حادثے میں پانچ مریضوں کی موت نے انتظامیہ کی لاپرواہی پر کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ اس سانحے کے بعد سے ہی ریاست میں سیاسی درجہ حرارت بڑھ گیا ہے اور اب ریاستی وزیر صحت نشانت کمار کے استعفے کا مطالبہ زور پکڑ رہا ہے۔
اخلاقی بنیادوں پر استعفے کا مطالبہ
اس معاملے پر ‘ہم’ (HAM) پارٹی کے ریاستی سیکریٹری مکیش پاٹھک نے سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے ہسپتال کے آئی سی یو میں لگی آگ کو ایک دل دہلا دینے والا واقعہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس حادثے میں دس سے زائد مریض بری طرح جھلس گئے تھے۔ پاٹھک نے مطالبہ کیا کہ اخلاقی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے وزیر صحت کو فوری طور پر اپنے عہدے سے مستعفی ہو جانا چاہیے۔
وزیر صحت کا رویہ اور عوامی غم و غصہ
تنقید کرنے والوں کا کہنا ہے کہ جب یہ حادثہ پیش آیا، اس کے کچھ ہی دیر بعد وزیر صحت نشانت کمار کا دہلی کا دورہ طے تھا۔ میڈیا کے سوالات پر ان کا خاموش رہ کر آگے بڑھ جانا عوام اور متاثرین کے اہل خانہ کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے۔ ناقدین کا ماننا ہے کہ وزیر کو دہلی جانے کے بجائے فوری طور پر مظفرپور پہنچ کر صورتحال کا جائزہ لینا چاہیے تھا اور متاثرین کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے تھا۔
مجرموں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ
اس سانحے پر صرف استعفے کا مطالبہ ہی نہیں ہو رہا، بلکہ ہسپتال انتظامیہ کے خلاف بھی سخت قانونی کارروائی کی مانگ کی جا رہی ہے۔ مکیش پاٹھک نے وزیر اعلیٰ سے اپیل کی ہے کہ ہسپتال کے ذمہ دار عملے اور ملوث افراد کے خلاف دفعہ 302 کے تحت مقدمہ درج کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ جو لوگ علاج کی امید لے کر ہسپتال آئے تھے، ان کی موت کا ذمہ دار کون ہے؟ یہ ایک ایسا سوال ہے جس کا جواب ہر کوئی جاننا چاہتا ہے۔
فی الحال، اس واقعے کے بعد سے مظفرپور کے نجی ہسپتالوں کی سکیورٹی اور آگ سے بچاؤ کے انتظامات پر بھی بڑے سوالات اٹھ رہے ہیں۔ انتظامیہ کی جانب سے تحقیقات کی یقین دہانی کرائی گئی ہے، لیکن عوامی حلقوں میں غم و غصہ بدستور برقرار ہے۔
دستبرداری: یہ خبر دستیاب مقامی ذرائع کی بنیاد پر مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے تیار کی گئی ہے۔ AI سے غلطیاں ممکن ہیں اور اس مواد کی صحت یا اصلیت کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ TheAinak صرف معلومات کو یکجا کرتا ہے اور اس کے مواد کا ذمہ دار نہیں ہے۔ قارئین سے گزارش ہے کہ کسی بھی معلومات پر بھروسہ کرنے یا اس پر عمل کرنے سے پہلے اس کی آزادانہ طور پر تصدیق ضرور کر لیں۔
