مظفرپور کے ریڈ لائٹ ایریا میں نرتکی کی پراسرار موت: ماں نے خودکشی کے دعوے کو مسترد کر دیا
مظفرپور کے ریڈ لائٹ ایریا میں ایک 22 سالہ نرتکی کی مشکوک موت کا معاملہ مزید پیچیدہ ہو گیا ہے۔ متوفیہ کی والدہ نے، جو بدھ کو لکھنؤ سے مظفرپور پہنچی تھیں، اپنی بیٹی کی موت کو خودکشی ماننے سے انکار کر دیا ہے اور اس معاملے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
پولیس اس معاملے کی تحقیقات قتل اور خودکشی دونوں پہلوؤں سے کر رہی ہے، لیکن متوفیہ کی ماں، سیما پال، نے اپنی بیٹی کی موت پر سنگین سوالات اٹھائے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کی بیٹی کبھی خودکشی نہیں کر سکتی تھی کیونکہ وہ ہمیشہ خوش رہتی تھی اور پڑھائی میں بھی بہت اچھی تھی۔ انہوں نے بتایا کہ ان کی بیٹی نے یو پی بورڈ کا امتحان 72 فیصد نمبروں سے پاس کیا تھا۔
خاندانی حالات اور مظفرپور آمد
سیما پال نے بتایا کہ ان کے خاندان کی مالی حالت کمزور ہونے کی وجہ سے ان کی بیٹی تقریباً دو سال پہلے اپنی ایک سہیلی کے ساتھ نوکری کی تلاش میں مظفرپور آئی تھی۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ان کی بیٹی نے کبھی یہ نہیں بتایا کہ وہ نرتکی کا کام کرتی ہے۔ وہ ہمیشہ یہی کہتی تھی کہ اسے اچھی نوکری مل گئی ہے اور اسے کسی قسم کی پریشانی نہیں ہے۔
صحت کے مسائل اور خودکشی کا انکار
متوفیہ کی ماں نے یہ بھی انکشاف کیا کہ ان کی بیٹی گزشتہ ایک سال سے پیٹ درد کی شکایت میں مبتلا تھی اور اس کا علاج ایس کے ایم سی ایچ میں چل رہا تھا۔ انہوں نے دلیل دی کہ جب ان کی بیٹی نے شدید درد کے دوران بھی کبھی خودکشی جیسا قدم نہیں اٹھایا، تو اب ایسا کرنا ممکن نہیں لگتا۔ انہوں نے کہا کہ انہیں نہیں معلوم کہ ان کی بیٹی کی موت کیسے ہوئی، لیکن اس پورے معاملے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات ہونی چاہیے اور قصورواروں کو سزا ملنی چاہیے۔
پولیس کی تحقیقات
مظفرپور پہنچنے کے بعد، سیما پال سب سے پہلے ریڈ لائٹ ایریا گئیں، جہاں انہیں معلوم ہوا کہ پولیس منگل کو ہی لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے ایس کے ایم سی ایچ بھیج چکی ہے۔ اس کے بعد وہ نگر تھانہ پہنچیں اور تھانے دار جے پرکاش سنگھ اور ایڈیشنل تھانے دار رویکانت دوبے سے واقعے کی تفصیلات حاصل کیں۔ بعد میں وہ ایس کے ایم سی ایچ بھی گئیں۔
نگر تھانہ پولیس کا کہنا ہے کہ معاملے کی تحقیقات تمام پہلوؤں سے کی جا رہی ہے۔ پولیس حکام نے بتایا کہ پوسٹ مارٹم رپورٹ اور دیگر شواہد کی بنیاد پر مزید کارروائی کی جائے گی۔ فی الحال، پولیس قتل اور خودکشی دونوں امکانات کو مدنظر رکھتے ہوئے تحقیقات میں مصروف ہے۔
دستبرداری: یہ خبر دستیاب مقامی ذرائع کی بنیاد پر مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے تیار کی گئی ہے۔ AI سے غلطیاں ممکن ہیں اور اس مواد کی صحت یا اصلیت کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ TheAinak صرف معلومات کو یکجا کرتا ہے اور اس کے مواد کا ذمہ دار نہیں ہے۔ قارئین سے گزارش ہے کہ کسی بھی معلومات پر بھروسہ کرنے یا اس پر عمل کرنے سے پہلے اس کی آزادانہ طور پر تصدیق ضرور کر لیں۔
