مقامی خبریں

مظفرپور کی بیٹی کا عالمی عزم: ویشنوی جھا تاجکستان میں دکھائیں گی اپنے فن کا مظاہرہ

عالمی سطح پر بہار کا نام روشن کرنے کو تیار ویشنوی

مظفرپور کے گنی پور مشرا ٹولہ کی رہائشی ویشنوی جھا ایک بار پھر بین الاقوامی سطح پر ہندوستان کی نمائندگی کرنے کے لیے تیار ہیں۔ 11 سے 15 جون تک تاجکستان کے دارالحکومت دوشنبہ میں منعقد ہونے والی ‘ایشین کوراش چیمپئن شپ’ میں ویشنوی اپنے کھیل کا لوہا منوائیں گی۔ اس کامیابی نے نہ صرف ان کے اہل خانہ بلکہ پورے مظفرپور کو فخر میں مبتلا کر دیا ہے۔

جدوجہد اور کامیابی کا سفر

ویشنوی کی کامیابی کی کہانی ہمت اور مستقل مزاجی کی ایک بہترین مثال ہے۔ چھ سال کی عمر سے ہی مارشل آرٹس میں دلچسپی رکھنے والی ویشنوی نے اپنے کیریئر کا آغاز ووشو سے کیا تھا۔ اس دوران ایک سنگین چوٹ کے باعث ان کا پاؤں ٹوٹ گیا، جس نے انہیں کھیل سے دور ہونے پر مجبور کر دیا، لیکن انہوں نے ہمت نہیں ہاری۔ چوٹ سے صحت یاب ہونے کے بعد انہوں نے کراٹے، جوڈو اور پھر کوراش کا رخ کیا۔ آج وہ اب تک مختلف مقابلوں میں 21 گولڈ اور سلور میڈل جیت کر اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا چکی ہیں۔

روزانہ 6 گھنٹے کی سخت مشق

ویشنوی کی کامیابی کے پیچھے ان کی سخت محنت کارفرما ہے۔ وہ روزانہ 5 سے 6 گھنٹے جم اور اکیڈمی میں مشق کرتی ہیں۔ فی الحال وہ بارہویں جماعت کی طالبہ ہیں اور اپنی پڑھائی کے ساتھ ساتھ کھیل کے میدان میں بھی توازن برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ ان کے والد رویندر کمار جھا کے مطابق، بیٹی کی تربیت اور ضروریات پر ماہانہ تقریباً 10 ہزار روپے کا خرچ آتا ہے، لیکن ویشنوی کی کامیابیوں نے ان تمام مشکلات کو آسان بنا دیا ہے۔

کوراش کیا ہے؟

کوراش ایک قدیم مارشل آرٹ ہے جس کی ابتدا تقریباً ساڑھے تین ہزار سال قبل ازبکستان میں ہوئی تھی۔ یہ ایک طرح کی ‘اسٹینڈ اپ ریسلنگ’ ہے جس میں کھلاڑیوں کو صرف کھڑے رہ کر حریف کو گرانے کی تکنیک استعمال کرنی ہوتی ہے۔ اس کھیل میں گراؤنڈ فائٹنگ یا پاؤں پکڑنے کی اجازت نہیں ہوتی۔ کھلاڑیوں کے لیے مخصوص سبز اور نیلے رنگ کی جیکٹ پہننا لازمی ہے۔

ویشنوی اس سے قبل جنوبی کوریا میں منعقدہ بین الاقوامی مقابلے میں بھی میڈل جیت چکی ہیں۔ اب پوری امید ہے کہ وہ تاجکستان سے بھی کامیابی کا پرچم لہرا کر وطن واپس لوٹیں گی۔


دستبرداری: یہ خبر دستیاب مقامی ذرائع کی بنیاد پر مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے تیار کی گئی ہے۔ AI سے غلطیاں ممکن ہیں اور اس مواد کی صحت یا اصلیت کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ TheAinak صرف معلومات کو یکجا کرتا ہے اور اس کے مواد کا ذمہ دار نہیں ہے۔ قارئین سے گزارش ہے کہ کسی بھی معلومات پر بھروسہ کرنے یا اس پر عمل کرنے سے پہلے اس کی آزادانہ طور پر تصدیق ضرور کر لیں۔

😃+

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button