مظفرپور میں کوڑا کرکٹ کا بحران: انتظامیہ کا سخت ایکشن، 11 رکنی اسپیشل سیل تشکیل
شہر میں صفائی ستھرائی کے لیے نیا لائحہ عمل
مظفرپور میں کوڑا کرکٹ کے بڑھتے ہوئے ڈھیروں اور صفائی کے ناقص انتظام سے نمٹنے کے لیے ضلعی انتظامیہ نے اب کمر کس لی ہے۔ سپریم کورٹ کی سخت ہدایات کے پیش نظر، ضلع میں ٹھوس ویسٹ مینجمنٹ کے قوانین کو نافذ کرنے کے لیے ایک 11 رکنی خصوصی سیل تشکیل دیا گیا ہے۔ اس سیل کی نگرانی براہ راست ضلع مجسٹریٹ (DM) کریں گے، جس کا مقصد شہر اور دیہی علاقوں میں کوڑے کے انتظام کو بہتر بنانا ہے۔
بجلی کنکشن منقطع کرنے کی تنبیہ
انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ جو بڑے ادارے یا تجارتی مراکز کوڑا کرکٹ کے انتظام سے متعلق قوانین کی خلاف ورزی کریں گے، ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ قوانین کی مسلسل خلاف ورزی کرنے والوں کے بجلی کنکشن تک منقطع کیے جا سکتے ہیں۔ یہ اقدام ماحولیاتی تحفظ ایکٹ 1986 کے تحت حاصل اختیارات کے مطابق اٹھایا گیا ہے تاکہ شہر کو آلودگی سے پاک کیا جا سکے۔
کمیٹی میں کون کون شامل ہے؟
اس خصوصی سیل میں ضلعی انتظامیہ کے اعلیٰ افسران کے علاوہ مختلف محکموں کے نمائندے شامل کیے گئے ہیں، جن میں درج ذیل شامل ہیں:
- ضلع مجسٹریٹ (بطور چیئرمین)
- ڈویژنل فارسٹ آفیسر اور ڈی ڈی سی
- میونسپل کمشنر اور تمام نگر پریشد کے ایگزیکٹو افسران
- بہار اسٹیٹ پولوشن کنٹرول بورڈ کے علاقائی افسران
- پی ایچ ای ڈی اور بوڈکو کے نمائندے
- تمام بلاک ڈیولپمنٹ افسران (BDOs)
کچرے کے پہاڑ اور میونسپل کارپوریشن کی سستی
شہر کے لیے سب سے بڑی تشویش کا باعث روتنیا میں جمع کچرے کا پہاڑ ہے۔ گزشتہ تین سالوں سے میونسپل کارپوریشن کی جانب سے کچرے کو ٹھکانے لگانے کا عمل مکمل طور پر ٹھپ پڑا ہے۔ شہر کے 49 وارڈوں سے جمع کیا جانے والا کچرا مسلسل ایک ہی جگہ ڈمپ کیا جا رہا ہے، جس سے وہاں کچرے کے بڑے پہاڑ بن چکے ہیں۔ اگرچہ ڈیڑھ سال کی تاخیر کے بعد کچرے کو ٹھکانے لگانے کا ٹھیکہ نوئیڈا کی ایک ایجنسی کو دیا گیا ہے، لیکن زمینی سطح پر کام کی رفتار اب بھی انتہائی سست ہے۔
اب یہ خصوصی سیل ہر ماہ باقاعدگی سے اجلاس منعقد کرے گا تاکہ کام کی پیش رفت کا جائزہ لیا جا سکے اور شہر کو اس ماحولیاتی بحران سے نکالا جا سکے۔
دستبرداری: یہ خبر دستیاب مقامی ذرائع کی بنیاد پر مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے تیار کی گئی ہے۔ AI سے غلطیاں ممکن ہیں اور اس مواد کی صحت یا اصلیت کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ TheAinak صرف معلومات کو یکجا کرتا ہے اور اس کے مواد کا ذمہ دار نہیں ہے۔ قارئین سے گزارش ہے کہ کسی بھی معلومات پر بھروسہ کرنے یا اس پر عمل کرنے سے پہلے اس کی آزادانہ طور پر تصدیق ضرور کر لیں۔
