مقامی خبریں

مظفرپور: سہیلی کی شادی سے ناراض لڑکی ٹاور پر چڑھ گئی، چار گھنٹے تک ہائی وولٹیج ڈرامہ

مظفرپور کے صاحب گنج علاقے میں ایک غیر معمولی واقعہ پیش آیا جہاں ایک 20 سالہ لڑکی اپنی سہیلی کی شادی کسی اور جگہ طے ہونے پر احتجاجاً ایک موبائل ٹاور پر چڑھ گئی۔ یہ واقعہ گلاب پٹی پنچایت کے تیلیا چھپرا چور میں پیش آیا اور تقریباً چار گھنٹے تک جاری رہنے والے اس ڈرامے نے مقامی لوگوں کی بڑی تعداد کو اپنی طرف متوجہ کیا۔

واقعہ کی تفصیلات

جمعرات کے روز پیش آنے والے اس واقعے میں، لڑکی نے اپنی سہیلی سے شادی کرنے پر اصرار کیا اور کہا کہ جب تک اس کی سہیلی وہاں نہیں آئے گی، وہ ٹاور سے نیچے نہیں اترے گی۔ مقامی افراد کی جانب سے اسے نیچے اتارنے کی تمام کوششیں ناکام رہیں۔ لڑکی اور اس کی سہیلی دونوں گریجویشن کی طالبات ہیں اور مختلف گاؤں سے تعلق رکھتی ہیں۔

واقعہ کی اطلاع ملتے ہی، سرکل انسپکٹر ابھے کمار سنگھ اور ایڈیشنل تھانیدار اشوک رام پولیس فورس کے ساتھ موقع پر پہنچے۔ فائر بریگیڈ کی ٹیم کو بھی بلایا گیا تاکہ کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے نمٹا جا سکے۔ پولیس اہلکاروں نے لڑکی کو سمجھانے کی بھرپور کوشش کی، لیکن وہ اپنی ضد پر اڑی رہی۔

ایس ڈی پی او کی مداخلت

بالآخر، سرائیہ کی ایس ڈی پی او ابھیجیت کور موقع پر پہنچیں اور انہوں نے لڑکی سے بات چیت کی۔ ایس ڈی پی او کی مسلسل کوششوں اور سمجھانے بجھانے کے بعد، لڑکی بالآخر ٹاور سے بحفاظت نیچے اتر آئی۔ اسے فوری طور پر تھانے لے جایا گیا جہاں اس سے مزید پوچھ گچھ کی گئی۔

تھانے میں پوچھ گچھ کے دوران، لڑکی نے پولیس کو بتایا کہ وہ اپنی سہیلی سے محبت کرتی ہے اور جب اسے معلوم ہوا کہ اس کی سہیلی کی شادی کسی اور سے طے ہو گئی ہے، تو اس نے دباؤ ڈالنے کے لیے یہ قدم اٹھایا۔ ایس ڈی پی او نے بتایا کہ لڑکی کے والدین کو تھانے بلایا گیا ہے اور ضروری تحقیقات کے بعد اسے ان کے حوالے کر دیا جائے گا۔

وائرل ویڈیو

اس واقعے سے متعلق ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہا ہے جس میں لڑکی خود یہ کہتے ہوئے سنی جا سکتی ہے کہ وہ ایک لڑکی سے محبت کرتی ہے اور ڈیڑھ سال قبل اس سے شادی کرنے کا ارادہ رکھتی تھی۔ اس نے اپنی ناراضگی کا اظہار کیا کہ اس کی سہیلی کی شادی کسی اور جگہ طے کی جا رہی ہے۔ یہ واقعہ مظفرپور میں ایک جذباتی اور غیر معمولی صورتحال کی عکاسی کرتا ہے۔


دستبرداری: یہ خبر دستیاب مقامی ذرائع کی بنیاد پر مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے تیار کی گئی ہے۔ AI سے غلطیاں ممکن ہیں اور اس مواد کی صحت یا اصلیت کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ TheAinak صرف معلومات کو یکجا کرتا ہے اور اس کے مواد کا ذمہ دار نہیں ہے۔ قارئین سے گزارش ہے کہ کسی بھی معلومات پر بھروسہ کرنے یا اس پر عمل کرنے سے پہلے اس کی آزادانہ طور پر تصدیق ضرور کر لیں۔

😃+

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button