مظفرپور میں پرانی دشمنی کا خونی انجام: مزار سے لوٹتے نوجوان کو گولی مار دی گئی
مظفرپور، بہار: مظفرپور کے کانٹی تھانہ علاقہ کے کوٹھیا میں پرانی دشمنی کے باعث ایک 20 سالہ نوجوان کو گولی مار کر زخمی کر دیا گیا۔ متاثرہ کی شناخت میناپور کے پرساد گاؤں کے رہائشی محمد افروز کے طور پر ہوئی ہے، جسے فوری طور پر ایک نجی اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے جہاں اس کی حالت خطرے سے باہر بتائی جا رہی ہے۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب افروز ایک مزار سے چادرپوشی کر کے واپس لوٹ رہا تھا۔
جمعرات کی شام پیش آنے والے اس واقعہ کے بعد پولیس کو اطلاع دی گئی اور ڈی ایس پی مغربی سوچترا کماری نے جائے وقوعہ کا دورہ کیا۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق، افروز کو جنید اور اس کے ساتھیوں نے گولی ماری ہے۔ پولیس کے مطابق، دونوں فریقین کے درمیان کافی عرصے سے پرانی رنجش چلی آ رہی تھی، جس میں ماضی میں چاقو بازی کا واقعہ بھی پیش آ چکا ہے۔
زخمی افروز نے اسپتال میں بتایا کہ اس کا گاؤں کے ہی ایک نوجوان سے 2024 سے مار پیٹ کے معاملے پر تنازعہ چل رہا تھا۔ اس معاملے میں وہ پہلے جیل بھی جا چکا ہے۔ جیل سے رہائی کے بعد، افروز نے ایک مزار پر چادرپوشی کی منت مانی تھی۔ جمعرات کو وہ اسی منت کو پورا کر کے واپس آ رہا تھا اور اگلے ہی دن کام کے سلسلے میں شہر سے باہر جانے کا ارادہ رکھتا تھا۔ اسی دوران، دو نامعلوم افراد نے اسے گھیر لیا اور فائرنگ کر دی۔ گولی افروز کے بائیں پیر میں لگی، جس کے نتیجے میں وہ سڑک پر گر گیا۔
گولی کی آواز سن کر آس پاس کے دیہاتی موقع پر پہنچ گئے، جس کے بعد حملہ آور فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔ کانٹی پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے زخمی افروز کو اسپتال پہنچایا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ یہ واردات پیسے کے لین دین اور پرانی دشمنی کا نتیجہ ہے۔ ڈی ایس پی مغربی سوچترا کماری نے تصدیق کی ہے کہ پولیس جنید سمیت دیگر ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مار رہی ہے۔ علاقے میں کشیدگی کے پیش نظر پولیس کی گشت بڑھا دی گئی ہے تاکہ مزید کسی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔ متاثرہ کے اہل خانہ نے انصاف کا مطالبہ کیا ہے اور پولیس سے جلد از جلد ملزمان کو گرفتار کرنے کی اپیل کی ہے۔
دستبرداری: یہ خبر دستیاب مقامی ذرائع کی بنیاد پر مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے تیار کی گئی ہے۔ AI سے غلطیاں ممکن ہیں اور اس مواد کی صحت یا اصلیت کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ TheAinak صرف معلومات کو یکجا کرتا ہے اور اس کے مواد کا ذمہ دار نہیں ہے۔ قارئین سے گزارش ہے کہ کسی بھی معلومات پر بھروسہ کرنے یا اس پر عمل کرنے سے پہلے اس کی آزادانہ طور پر تصدیق ضرور کر لیں۔
