مقامی خبریں

مظفرپور: سرکاری پرائمری اسکول کنہولی ڈیہ میں اردو اساتذہ کی فوری تقرری کا مطالبہ

مظفرپور: ضلع مظفرپور کے سرکاری پرائمری اسکول اردو کنہولی ڈیہ میں اردو اساتذہ کی عدم دستیابی پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ بھاکپا (مارکسوادی) کی ضلع کمیٹی کے رکن سورج کمار سنگھ اور نگر سکریٹری شاہنواز حسین عرف نوشاد نے منگل کو ضلع تعلیمی افسر (ڈی ای او) کو ایک یادداشت پیش کی، جس میں اسکول میں فوری طور پر اردو اساتذہ کی تقرری کا مطالبہ کیا گیا۔

وفد نے ڈی ای او کو بتایا کہ اسکول میں تقریباً 60 طلباء زیر تعلیم ہیں، جن میں سے اکثریت کا تعلق مسلم سماج سے ہے۔ یہ طلباء اردو زبان اور ثقافت سے گہرا لگاؤ رکھتے ہیں اور ان کے لیے اردو تعلیم انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔ تاہم، اسکول میں تین اساتذہ موجود ہونے کے باوجود، اردو پڑھانے کے لیے ایک بھی استاد نہیں ہے۔ اس صورتحال کے باعث طلباء کو اردو کی تعلیم سے محروم رہنا پڑ رہا ہے، جو ان کے تعلیمی مستقبل اور لسانی ترقی کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے۔

وفد نے زور دیا کہ اردو زبان کی تعلیم کو فروغ دینا اور اقلیتی طلباء کے حقوق کا تحفظ کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ اردو اساتذہ کی عدم موجودگی سے نہ صرف طلباء کی تعلیمی کارکردگی متاثر ہو رہی ہے بلکہ انہیں اپنی مادری زبان میں تعلیم حاصل کرنے کے بنیادی حق سے بھی محروم کیا جا رہا ہے۔ یہ صورتحال تعلیمی مساوات کے اصولوں کے بھی خلاف ہے۔

ڈی ای او نے وفد کی بات کو غور سے سنا اور انہیں یقین دلایا کہ اس معاملے پر ضروری کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ وہ اسکول میں اردو اساتذہ کی دستیابی کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن اقدامات کریں گے۔ تاہم، وفد نے ڈی ای او سے مطالبہ کیا کہ یہ صرف یقین دہانی نہ ہو بلکہ اس پر فوری اور ٹھوس عمل درآمد کیا جائے۔

مقامی کمیونٹی اور تعلیمی حلقوں نے بھی اس مطالبے کی حمایت کی ہے اور امید ظاہر کی ہے کہ ضلع انتظامیہ اس مسئلے کو سنجیدگی سے لے گی اور جلد از جلد اردو اساتذہ کی تقرری کو یقینی بنائے گی تاکہ کنہولی ڈیہ کے طلباء کو معیاری اردو تعلیم حاصل ہو سکے۔ یہ مسئلہ صرف ایک اسکول کا نہیں بلکہ ضلع بھر میں اردو تعلیم کی صورتحال پر ایک سوالیہ نشان ہے۔


دستبرداری: یہ خبر دستیاب مقامی ذرائع کی بنیاد پر مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے تیار کی گئی ہے۔ AI سے غلطیاں ممکن ہیں اور اس مواد کی صحت یا اصلیت کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ TheAinak صرف معلومات کو یکجا کرتا ہے اور اس کے مواد کا ذمہ دار نہیں ہے۔ قارئین سے گزارش ہے کہ کسی بھی معلومات پر بھروسہ کرنے یا اس پر عمل کرنے سے پہلے اس کی آزادانہ طور پر تصدیق ضرور کر لیں۔

😃+

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button