مقامی خبریں

مظفرپور میں پانی کا بحران: بلدیہ کی غفلت سے ہزاروں شہری پریشان

مظفرپور شہر میں پانی کی قلت نے شہریوں کی مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے۔ بلدیہ کے عملے کی لاپرواہی کے باعث سبمرسیبل پمپوں کے میٹر ریچارج نہ ہونے سے شہر کے مختلف علاقوں میں پانی کی فراہمی متاثر ہوئی ہے۔ گزشتہ چار دنوں کے دوران، 2 سے 5 ستمبر کے درمیان، 11 سبمرسیبل پمپ بند ہو گئے، جس سے 25 ہزار سے زائد آبادی کو شدید پانی کے بحران کا سامنا کرنا پڑا۔

اس صورتحال سے متاثر ہونے والے علاقوں میں پنکھا ٹولی، نیم چوک، سادپورہ گمٹی، قبرستان، خاجے پور، داس بابو کالونی، نونفر محلہ، شیوپوری (روڈ نمبر ایک، دو، تین)، مجھولیا روڈ، چک عبدالواحد، رادھے رادھے گلی، اپارٹمنٹ گلی، شرماجی گلی، سرائے سید علی محلہ، آزاد کالونی اور یوگیا ٹولی شامل ہیں۔ ان علاقوں کے مکینوں کو پینے کے پانی کے لیے شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

پانی کی فراہمی میں تعطل اور بحالی

مذکورہ مدت میں پانچ وارڈوں میں لگے 11 سبمرسیبل پمپوں سے پانی کی فراہمی مکمل طور پر ٹھپ ہو گئی۔ بعد میں کچھ سبمرسیبل پمپوں کے میٹر ریچارج ہونے میں 12 سے 24 گھنٹے لگے، جبکہ یوگیا ٹولی میں پانچویں دن اتوار کو پمپ دوبارہ فعال ہو سکا۔ میٹر ریچارج نہ ہونے کی وجہ سے بجلی کی سپلائی بند ہو جاتی ہے، جس کے نتیجے میں پمپ کام کرنا چھوڑ دیتے ہیں اور پانی کی فراہمی رک جاتی ہے۔

وارڈ کونسلرز اجے اوجھا، چندا کماری، ظفیر فریادی اور دیگر نے بلدیہ کی واٹر ورکس برانچ کو اس مسئلے سے آگاہ کیا ہے، لیکن ان کے مطابق میٹر ریچارج میں مسلسل غفلت کی وجہ سے یہ مسئلہ بار بار پیش آ رہا ہے۔

پریویلج موڈ کی ناکامی

بلدیہ کے علاقے کے 49 وارڈوں میں 250 سے زیادہ سبمرسیبل پمپ نصب ہیں۔ گزشتہ سال ان سبمرسیبل پمپوں سے منسلک میٹروں کو ‘پریویلج موڈ’ میں ڈالنے کی پہل کی گئی تھی، تاکہ رقم ختم ہونے پر بھی میٹر چلتے رہیں اور بلا تعطل بجلی کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔ تاہم، پریویلج موڈ میں بھی مقررہ وقت پر رقم جمع کرانا ضروری ہوتا ہے۔ اس میں تاخیر کی صورت میں بجلی کی سپلائی منقطع ہو جاتی ہے، جس سے پانی کی فراہمی متاثر ہوتی ہے۔ بلدیہ کی جانب سے اس نظام کو مؤثر طریقے سے برقرار نہ رکھنے کی وجہ سے شہریوں کو بار بار پانی کے بحران کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

شہریوں کا مطالبہ ہے کہ بلدیہ اس مسئلے کو مستقل بنیادوں پر حل کرے تاکہ انہیں پانی جیسی بنیادی ضرورت کے لیے پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔


دستبرداری: یہ خبر دستیاب مقامی ذرائع کی بنیاد پر مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے تیار کی گئی ہے۔ AI سے غلطیاں ممکن ہیں اور اس مواد کی صحت یا اصلیت کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ TheAinak صرف معلومات کو یکجا کرتا ہے اور اس کے مواد کا ذمہ دار نہیں ہے۔ قارئین سے گزارش ہے کہ کسی بھی معلومات پر بھروسہ کرنے یا اس پر عمل کرنے سے پہلے اس کی آزادانہ طور پر تصدیق ضرور کر لیں۔

😃+

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button