مظفرپور: بی ایڈ داخلہ امتحان کا انعقاد، 91 فیصد امیدواروں نے دی حاضری
سخت نگرانی اور شفافیت کے درمیان بی ایڈ داخلہ امتحان مکمل
مظفرپور میں اتوار کے روز ریاستی سطح کے بی ایڈ مشترکہ داخلہ امتحان کا انعقاد پرامن طریقے سے ہوا۔ ضلع کے 26 مراکز پر منعقدہ اس امتحان میں امیدواروں کی بڑی تعداد شریک ہوئی، جس سے تعلیمی میدان میں داخلے کے خواہشمند طلبا کا جوش و خروش واضح طور پر نظر آیا۔
انتظامی اعداد و شمار کے مطابق، ضلع بھر میں کل 18,871 امیدواروں کو امتحان میں شامل ہونا تھا، جن میں سے 16,314 امیدواروں نے اپنی حاضری درج کرائی۔ اس طرح ضلع میں حاضری کا تناسب 91.3 فیصد رہا، جبکہ 1,542 امیدوار غیر حاضر رہے۔ امتحان صبح 11 بجے سے دوپہر 1 بجے تک جاری رہا، جس کے لیے مراکز پر صبح 8:30 بجے سے ہی داخلہ شروع کر دیا گیا تھا۔
سخت حفاظتی انتظامات اور ڈریس کوڈ
امتحان کی شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے انتظامیہ نے اس بار خصوصی اقدامات کیے تھے۔ تمام مراکز پر پہلی بار جیمرز نصب کیے گئے تھے تاکہ کسی بھی قسم کی تکنیکی مداخلت یا نقل کو روکا جا سکے۔ اس کے علاوہ، امیدواروں کی شناخت کے لیے بائیو میٹرک تصدیق کو لازمی قرار دیا گیا تھا۔
امتحان کے لیے ایک مخصوص ڈریس کوڈ بھی نافذ کیا گیا تھا۔ امیدواروں کو صرف ہاف شرٹ اور سادہ پینٹ پہن کر آنے کی ہدایت دی گئی تھی۔ ساتھ ہی، جوتے اور موزے پہن کر آنے پر مکمل پابندی تھی۔ جن امیدواروں نے فل بازو کی شرٹ پہنی تھی، انہیں داخلے سے قبل سخت جانچ کے عمل سے گزرنا پڑا۔
انتظامی نگرانی اور کوالیفائنگ مارکس
امتحان کے دوران کسی بھی قسم کی بدعنوانی کو روکنے کے لیے ہر دو مراکز پر ایک فلائنگ اسکواڈ تعینات کیا گیا تھا۔ مراکز پر پولیس فورس اور مجسٹریٹ کی موجودگی نے نظم و ضبط کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کیا۔
امتحان میں کامیابی کے لیے کوالیفائنگ مارکس کا تعین پہلے ہی کر دیا گیا تھا۔ جنرل زمرے کے امیدواروں کے لیے 35 فیصد (42 نمبر) جبکہ ریزرو زمرے، معذور اور اقتصادی طور پر کمزور امیدواروں کے لیے 30 فیصد (36 نمبر) حاصل کرنا لازمی ہے۔ امتحان کے پرامن انعقاد پر یونیورسٹی انتظامیہ نے اطمینان کا اظہار کیا ہے۔
دستبرداری: یہ خبر دستیاب مقامی ذرائع کی بنیاد پر مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے تیار کی گئی ہے۔ AI سے غلطیاں ممکن ہیں اور اس مواد کی صحت یا اصلیت کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ TheAinak صرف معلومات کو یکجا کرتا ہے اور اس کے مواد کا ذمہ دار نہیں ہے۔ قارئین سے گزارش ہے کہ کسی بھی معلومات پر بھروسہ کرنے یا اس پر عمل کرنے سے پہلے اس کی آزادانہ طور پر تصدیق ضرور کر لیں۔
