مقامی خبریں

مظفرپور: اسکول کے مالیاتی ریکارڈ میں گڑبڑی کا انکشاف، اسٹیڈیم کی تعمیر پر بھی اٹھ رہے ہیں سوالات

اسکول انتظامیہ کی لاپرواہی پر رکن اسمبلی کی سخت ناراضگی

مظفرپور کے مسہری بلاک کے چھپرا میگھ واقع شری رام جانکی ہائی اسکول (10+2) میں نئی انتظامی کمیٹی کی تشکیل کے بعد منعقدہ پہلی میٹنگ میں مالی بے ضابطگیوں کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ اسکول کی مینجمنٹ کمیٹی کی صدر اور بوچاہاں کی رکن اسمبلی بے بی کماری کی صدارت میں ہوئی اس میٹنگ میں اسکول کے گزشتہ برسوں کے مالیاتی ریکارڈز کی جانچ کی گئی۔

مالیاتی ریکارڈ میں شفافیت کا فقدان

جانچ کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ اسکول کے ترقیاتی فنڈ سے بڑی رقوم بغیر کسی باضابطہ منظوری یا کمیٹی کے ریزولیوشن کے خرچ کی گئی ہیں۔ رکن اسمبلی نے اس پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے اسکول کے ہیڈ ماسٹر اور اساتذہ کو سخت ہدایت دی کہ مستقبل میں تمام مالی معاملات کو کمیٹی کی میٹنگ میں پاس کروا کر ہی انجام دیا جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ عوامی پیسے کے استعمال میں شفافیت اور قواعد کی پابندی لازمی ہے۔

اسکول کی سیکورٹی اور بنیادی ڈھانچہ

میٹنگ کے دوران ہیڈ ماسٹر نے اسکول کی چاردیواری کو مزید تین فٹ اونچا کرنے کی تجویز رکھی تاکہ اسکول کی سیکورٹی بہتر ہو سکے اور اسے میٹرک امتحان کا مرکز بنانے کی راہ ہموار ہو۔ رکن اسمبلی نے اس کام کے لیے درکار فنڈز فراہم کرنے کا یقین دلایا ہے۔

اسٹیڈیم کی تعمیر پر بدعنوانی کے الزامات

اسکول کے دورے کے بعد رکن اسمبلی نے احاطے میں زیر تعمیر ریاستی سطح کے فٹ بال اسٹیڈیم کا بھی جائزہ لیا۔ وہاں موجود مقامی دیہاتیوں نے تعمیراتی معیار پر سنگین سوالات اٹھائے۔ لوگوں نے اسٹیڈیم کے پلرز اور چھت میں پڑی دراڑوں کو دکھاتے ہوئے اعلیٰ سطحی جانچ کا مطالبہ کیا۔

حیرت انگیز بات یہ رہی کہ اسٹیڈیم کا مرکزی دروازہ بند تھا اور متعلقہ محکمہ کے انجینئر سے رابطہ نہ ہو سکا، جس کی وجہ سے معائنہ مکمل نہیں ہو سکا۔ رکن اسمبلی نے عوام کو یقین دلایا ہے کہ وہ اس معاملے کو حکومت اور متعلقہ محکمہ تک پہنچائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ اگر سرکاری فنڈز کے غلط استعمال یا تعمیراتی کام میں لاپرواہی ثابت ہوئی تو ذمہ داروں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔


دستبرداری: یہ خبر دستیاب مقامی ذرائع کی بنیاد پر مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے تیار کی گئی ہے۔ AI سے غلطیاں ممکن ہیں اور اس مواد کی صحت یا اصلیت کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ TheAinak صرف معلومات کو یکجا کرتا ہے اور اس کے مواد کا ذمہ دار نہیں ہے۔ قارئین سے گزارش ہے کہ کسی بھی معلومات پر بھروسہ کرنے یا اس پر عمل کرنے سے پہلے اس کی آزادانہ طور پر تصدیق ضرور کر لیں۔

😃+

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button