مقامی خبریں

مظفرپور اسپتال آتشزدگی: چار گھنٹے کی تلاش کے بعد لاپتہ مریض برجنندن رائے بالآخر مل گئے، اہل خانہ نے سکھ کا سانس لیا

مظفرپور کے ایک نجی اسپتال میں آتشزدگی کے ہولناک واقعے کے بعد، جہاں پانچ افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے، ایک لاپتہ مریض برجنندن رائے عرف ودیا رائے کے اہل خانہ نے چار گھنٹے کی بے چینی کے بعد سکھ کا سانس لیا۔ ان کی بہو، سنگیتا دیوی، جو اپنے سسر کی تلاش میں پریشان تھیں، نے بالآخر انہیں اسپتال کے آئی سی یو میں محفوظ پایا۔

سنگیتا دیوی نے ای ٹی وی بھارت سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ان کے سسر کو سڑک حادثے میں زخمی ہونے کے بعد اسپتال میں داخل کرایا گیا تھا اور ان کی حالت تشویشناک تھی۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ اپنے سسر کے علاج کے لیے اپنی زمین بھی بیچ چکے تھے۔ آتشزدگی کے بعد جب برجنندن رائے نہیں مل رہے تھے تو اہل خانہ نے سڑک جام کر دی، جس کے بعد انتظامیہ حرکت میں آئی اور تلاش کا عمل تیز ہوا۔

آتشزدگی کا ہولناک منظر

سنگیتا دیوی نے آتشزدگی کا آنکھوں دیکھا حال بیان کرتے ہوئے بتایا کہ وہ بیت الخلا گئی تھیں، اور جب باہر نکلیں تو ہر طرف دھواں ہی دھواں تھا۔ انہوں نے گارڈ سے پوچھا تو معلوم ہوا کہ آگ لگی ہے۔ پہلے انہیں لگا کہ چھوٹی موٹی آگ ہوگی، لیکن جلد ہی شعلے بلند ہونے لگے اور صورتحال قابو سے باہر ہو گئی۔

اسپتال کی پانچویں منزل پر واقع آئی سی یو میں آگ لگی تھی، جہاں اس وقت 13 سے 15 مریض زیر علاج تھے۔ اس دلخراش واقعے میں اب تک پانچ افراد اپنی جان گنوا چکے ہیں، جبکہ کئی دیگر شدید زخمی ہیں اور ان کا علاج جاری ہے۔

وزیر صحت کا ردعمل اور تحقیقات کا حکم

بہار کے وزیر صحت نشانت کمار نے اس واقعے پر گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے مظفرپور کے ڈی ایم سے معلومات حاصل کرنے کے بعد سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ (سابقہ ٹویٹر) پر ایک پوسٹ میں لکھا کہ یہ خبر انتہائی دکھد اور دلخراش ہے۔ انہوں نے متاثرہ خاندانوں سے گہری تعزیت کا اظہار کیا۔

وزیر صحت نے ضلعی انتظامیہ کو زخمی مریضوں کی حفاظت اور علاج کے لیے ہر ممکن اقدامات کرنے کی ہدایت دی ہے۔ انہوں نے امدادی کارروائیوں کو جنگی بنیادوں پر چلانے کا بھی حکم دیا۔ نشانت کمار نے یقین دلایا کہ اس دکھد واقعے کی مکمل تحقیقات کی جائے گی اور ذمہ داروں کا تعین کیا جائے گا۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ مرحومین کی روحوں کو سکون عطا فرمائے اور سوگوار خاندانوں کو اس مشکل وقت میں صبر و ہمت دے۔

اس واقعے نے ایک بار پھر نجی اسپتالوں میں حفاظتی انتظامات کی خامیوں کو اجاگر کیا ہے اور انتظامیہ پر سوالات کھڑے کیے ہیں۔ متاثرین اور ان کے اہل خانہ انصاف کے منتظر ہیں۔


دستبرداری: یہ خبر دستیاب مقامی ذرائع کی بنیاد پر مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے تیار کی گئی ہے۔ AI سے غلطیاں ممکن ہیں اور اس مواد کی صحت یا اصلیت کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ TheAinak صرف معلومات کو یکجا کرتا ہے اور اس کے مواد کا ذمہ دار نہیں ہے۔ قارئین سے گزارش ہے کہ کسی بھی معلومات پر بھروسہ کرنے یا اس پر عمل کرنے سے پہلے اس کی آزادانہ طور پر تصدیق ضرور کر لیں۔

😃+

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button