مقامی خبریں

مظفرپور اسپتال آتشزدگی: زمین بیچ کر علاج کرایا، اب اپنوں کی تلاش میں در بدر بھٹک رہے ہیں لواحقین

مظفرپور میں اسپتال کا المناک واقعہ: چار افراد کی موت، لاپتہ مریضوں کے اہل خانہ صدمے میں

مظفرپور کے پرساد اسپتال میں جمعرات کی صبح پیش آنے والے ہولناک آتشزدگی کے واقعے نے پورے علاقے کو سوگوار کر دیا ہے۔ صبح تقریباً تین بجے لگی آگ نے اسپتال کے اندر افراتفری کا ماحول پیدا کر دیا، جس کے نتیجے میں اب تک چار افراد کی موت کی تصدیق ہو چکی ہے۔ مرنے والوں میں کرشن نندن پرساد سنگھ، گیتا دیوی، ششانک اور ادے کمار شامل ہیں۔

زمین بیچ کر کرایا علاج، اب اپنوں کا سراغ نہیں

اس سانحے کا سب سے دردناک پہلو وہ خاندان ہیں جو اپنے پیاروں کو ڈھونڈنے کے لیے اسپتال کے باہر بے بسی کی حالت میں کھڑے ہیں۔ منیاری تھانہ علاقے کے رہنے والے برج نندن رائے کے اہل خانہ کا حال سب سے زیادہ خراب ہے۔ ان کی بہو نے روتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے اپنی زمین بیچ کر علاج کے لیے بیس ہزار روپے کا انتظام کیا تھا، لیکن اب ان کے سسر کا کہیں پتہ نہیں چل رہا ہے۔ چار گھنٹے سے زائد کا وقت گزر جانے کے بعد بھی انتظامیہ کی جانب سے کوئی واضح جواب نہ ملنا ان کے دکھ میں مزید اضافہ کر رہا ہے۔

انتظامیہ اور اسپتال انتظامیہ پر سوالات

آگ لگنے کے بعد کئی مریضوں کو دوسرے اسپتالوں میں منتقل کیا گیا ہے، لیکن لواحقین کا الزام ہے کہ انہیں اپنے مریضوں کے بارے میں درست معلومات فراہم نہیں کی جا رہی ہیں۔ اسپتال میں موجود افراتفری کے دوران کئی خاندان اپنے پیاروں سے بچھڑ گئے ہیں۔ اس واقعے کے بعد سے ہی اسپتال کے باہر غم و غصے کا ماحول ہے اور لوگ اپنے مریضوں کی خیریت جاننے کے لیے بے چین ہیں۔

اعلیٰ حکام کی مداخلت

اس المناک حادثے کے بعد ریاستی حکومت نے بھی نوٹس لیا ہے۔ وزیر صحت نے مظفرپور کے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ (DM) سے بات چیت کر کے واقعے کی تفصیلات طلب کی ہیں اور تحقیقات کی یقین دہانی کرائی ہے۔ وہیں، نائب وزیر اعلیٰ سمیت دیگر رہنماؤں نے بھی اس واقعے پر گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے۔ فی الحال، اسپتال کے باہر سیکورٹی سخت کر دی گئی ہے اور لاپتہ مریضوں کی تلاش کا عمل جاری ہے۔ یہ واقعہ نجی اسپتالوں میں حفاظتی انتظامات پر بھی بڑے سوالیہ نشان کھڑے کر رہا ہے۔


دستبرداری: یہ خبر دستیاب مقامی ذرائع کی بنیاد پر مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے تیار کی گئی ہے۔ AI سے غلطیاں ممکن ہیں اور اس مواد کی صحت یا اصلیت کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ TheAinak صرف معلومات کو یکجا کرتا ہے اور اس کے مواد کا ذمہ دار نہیں ہے۔ قارئین سے گزارش ہے کہ کسی بھی معلومات پر بھروسہ کرنے یا اس پر عمل کرنے سے پہلے اس کی آزادانہ طور پر تصدیق ضرور کر لیں۔

😃+

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button