مقامی خبریں

مظفر پور ہسپتال آتشزدگی: ایک اور زندگی کی بازی ہار گئی، ہلاکتوں کی تعداد سات تک پہنچی

مظفر پور کے پرشاد ہسپتال میں پیش آنے والے المناک آتشزدگی کے واقعے نے ایک اور خاندان کو سوگوار کر دیا ہے۔ زیر علاج 60 سالہ انجنی کمار سنگھ، جو اس حادثے میں شدید جھلس گئے تھے، ہسپتال میں زندگی اور موت کی کشمکش لڑتے ہوئے دم توڑ گئے۔ اس افسوسناک موت کے بعد اس حادثے میں جان گنوانے والوں کی کل تعداد اب سات ہو گئی ہے۔

واقعے کا پس منظر

یہ واقعہ شہر کے طبی حلقوں میں ایک بڑی غفلت کی نشاندہی کرتا ہے۔ ہسپتال میں لگی آگ نے نہ صرف عمارت کو نقصان پہنچایا بلکہ وہاں زیر علاج مریضوں کے لیے ایک قیامت خیز صورتحال پیدا کر دی تھی۔ ابتدائی طور پر کئی افراد اس حادثے کی زد میں آئے تھے، جنہیں فوری طور پر طبی امداد کے لیے منتقل کیا گیا تھا۔ تاہم، وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے مریضوں کی اموات کا سلسلہ جاری ہے۔

لواحقین کا غم اور غصہ

انجنی کمار سنگھ کی موت کے بعد ان کے اہل خانہ نے ہسپتال انتظامیہ پر شدید غصے کا اظہار کیا ہے۔ لواحقین کا ماننا ہے کہ اگر ہسپتال میں حفاظتی انتظامات درست ہوتے اور وقت پر احتیاطی تدابیر اختیار کی جاتیں، تو شاید یہ قیمتی جانیں بچائی جا سکتی تھیں۔ اہل خانہ نے مطالبہ کیا ہے کہ اس پورے معاملے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کی جائیں اور ذمہ داران کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔

انتظامیہ کی ذمہ داری

اس واقعے نے شہر کے دیگر نجی ہسپتالوں کی سیکیورٹی اور فائر سیفٹی آڈٹ پر بھی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ مقامی انتظامیہ اب اس بات کا جائزہ لے رہی ہے کہ آیا ہسپتال کے پاس فائر سیفٹی کے تمام ضروری سرٹیفکیٹ موجود تھے یا نہیں۔ شہریوں کا مطالبہ ہے کہ اس طرح کے حادثات کی روک تھام کے لیے ہسپتالوں میں سخت نگرانی کا نظام قائم کیا جائے۔

فی الحال، ہسپتال انتظامیہ کی جانب سے اس تازہ ترین ہلاکت پر کوئی تفصیلی بیان سامنے نہیں آیا ہے، لیکن پولیس معاملے کی تفتیش میں مصروف ہے۔ شہر کے عوام اس سانحے پر گہرے دکھ کا اظہار کر رہے ہیں اور متاثرہ خاندانوں کے لیے انصاف کا مطالبہ کر رہے ہیں۔


دستبرداری: یہ خبر دستیاب مقامی ذرائع کی بنیاد پر مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے تیار کی گئی ہے۔ AI سے غلطیاں ممکن ہیں اور اس مواد کی صحت یا اصلیت کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ TheAinak صرف معلومات کو یکجا کرتا ہے اور اس کے مواد کا ذمہ دار نہیں ہے۔ قارئین سے گزارش ہے کہ کسی بھی معلومات پر بھروسہ کرنے یا اس پر عمل کرنے سے پہلے اس کی آزادانہ طور پر تصدیق ضرور کر لیں۔

😃+

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button