مظفر پور: پرائیویٹ ہسپتال میں ہولناک آتشزدگی، 4 مریضوں کی موت سے کہرام
مظفر پور میں ہسپتال آتشزدگی کا المناک واقعہ
مظفر پور کے ایک نجی ہسپتال میں پیش آئے آتشزدگی کے ایک دلخراش واقعے نے پورے علاقے کو سوگوار کر دیا ہے۔ جمعرات کی صبح تقریباً 3 بجے جب شہر گہری نیند میں تھا، تبھی پرشاد ہسپتال سے اٹھنے والے دھوئیں اور شعلوں نے افراتفری مچا دی۔ اس حادثے میں اب تک 4 افراد کی موت کی تصدیق ہو چکی ہے، جبکہ کئی دیگر شدید زخمی حالت میں زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا ہیں۔
اپنوں کی تلاش میں بھٹکتے لواحقین
اس سانحے کی سب سے تکلیف دہ تصویر وہ ہے جہاں لواحقین اپنے پیاروں کو ڈھونڈنے کے لیے ہسپتال کے ملبے اور دوسرے ہسپتالوں کے چکر کاٹ رہے ہیں۔ منیاری تھانہ علاقہ کے رہائشی برج نندن رائے کے اہل خانہ کا برا حال ہے۔ ان کے بیٹے اور بہو کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنی زمین بیچ کر علاج کے لیے رقم جمع کی تھی، لیکن اب انہیں اپنے مریض کا کچھ پتہ نہیں چل رہا۔ ان کا الزام ہے کہ ہسپتال انتظامیہ نے شروع میں رقم کا مطالبہ کیا، لیکن حادثے کے بعد سے کوئی بھی واضح معلومات دینے کو تیار نہیں ہے۔
انتظامیہ اور حکومتی ردعمل
واقعے کی اطلاع ملتے ہی انتظامیہ حرکت میں آئی۔ ہسپتال میں موجود دیگر مریضوں کو فوری طور پر دوسرے مراکز میں منتقل کیا گیا ہے۔ مرنے والوں میں کرشن نندن پرساد سنگھ (76)، گیتا دیوی (62)، ششانک (30) اور ادے کمار (57) شامل ہیں۔ ریاستی وزیر صحت نے مظفر پور کے ڈی ایم سے ٹیلی فون پر بات کر کے واقعے کی تفصیلات طلب کی ہیں اور تحقیقات کی یقین دہانی کرائی ہے۔
تحقیقات کا مطالبہ
مقامی لوگوں اور متاثرہ خاندانوں کا مطالبہ ہے کہ اس واقعے کی شفاف تحقیقات ہونی چاہیے تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ ہسپتال میں آگ بجھانے کے کیا انتظامات تھے اور کیا حفاظتی ضوابط کی خلاف ورزی تو نہیں کی گئی تھی۔ ہسپتال انتظامیہ کی مبینہ غفلت پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ فی الحال، پورا شہر اس المناک واقعے کے بعد صدمے میں ہے اور متاثرین انصاف کے منتظر ہیں۔
دستبرداری: یہ خبر دستیاب مقامی ذرائع کی بنیاد پر مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے تیار کی گئی ہے۔ AI سے غلطیاں ممکن ہیں اور اس مواد کی صحت یا اصلیت کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ TheAinak صرف معلومات کو یکجا کرتا ہے اور اس کے مواد کا ذمہ دار نہیں ہے۔ قارئین سے گزارش ہے کہ کسی بھی معلومات پر بھروسہ کرنے یا اس پر عمل کرنے سے پہلے اس کی آزادانہ طور پر تصدیق ضرور کر لیں۔