بوچاہاں: چک عبدالرحمن میں سرکاری راستے پر قبضہ، دیہاتیوں کا انصاف کے لیے سی او دفتر میں احتجاج
عوامی گزرگاہ پر ناجائز قبضہ: دیہاتیوں کی پریشانی
ضلع مظفرپور کے بوچاہاں بلاک کے تحت آنے والے چک عبدالرحمن گاؤں میں سرکاری راستے پر مبینہ قبضے کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ مقامی باشندوں نے اس سلسلے میں بلاک کے سرکل آفیسر (سی او) کو ایک باضابطہ تحریری شکایت سونپی ہے، جس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ عوامی گزرگاہ کو فوری طور پر واگزار کرایا جائے۔
مسئلہ کیا ہے؟
دیہاتیوں کا کہنا ہے کہ گاؤں میں برسوں سے استعمال ہونے والے سرکاری راستے کو کچھ بااثر افراد نے اپنی ذاتی زمین میں شامل کر لیا ہے یا اس پر تعمیرات کر لی ہیں۔ اس راستے کے بند ہونے سے مقامی لوگوں، خاص طور پر اسکول جانے والے بچوں، بزرگوں اور کسانوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ کھیتوں تک جانے اور مرکزی سڑک تک رسائی کے لیے اب دیہاتیوں کو طویل اور دشوار گزار راستوں کا سہارا لینا پڑ رہا ہے۔
انتظامیہ سے کیا مطالبہ ہے؟
شکایت کنندگان نے سی او سے اپیل کی ہے کہ وہ محکمہ مال کے عملے کو موقع پر بھیج کر زمین کی پیمائش کروائیں۔ دیہاتیوں کا موقف ہے کہ اگر سرکاری زمین کی حد بندی کر دی جائے تو یہ تنازعہ ہمیشہ کے لیے ختم ہو سکتا ہے۔ انہوں نے متنبہ کیا ہے کہ اگر جلد کارروائی نہ ہوئی تو وہ اپنے حق کے لیے مزید احتجاج کرنے پر مجبور ہوں گے۔
اگلا قدم کیا ہوگا؟
سی او نے دیہاتیوں کو یقین دلایا ہے کہ معاملے کی جانچ کی جائے گی اور قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ مقامی سطح پر اس معاملے نے کافی تشویش پیدا کر دی ہے، کیونکہ سرکاری راستوں پر قبضے سے گاؤں کی روزمرہ کی زندگی بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔ اب سب کی نظریں انتظامیہ کے اگلے قدم پر لگی ہوئی ہیں کہ آیا وہ کب تک اس راستے کو بحال کراتی ہے۔
دستبرداری: یہ خبر دستیاب مقامی ذرائع کی بنیاد پر مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے تیار کی گئی ہے۔ AI سے غلطیاں ممکن ہیں اور اس مواد کی صحت یا اصلیت کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ TheAinak صرف معلومات کو یکجا کرتا ہے اور اس کے مواد کا ذمہ دار نہیں ہے۔ قارئین سے گزارش ہے کہ کسی بھی معلومات پر بھروسہ کرنے یا اس پر عمل کرنے سے پہلے اس کی آزادانہ طور پر تصدیق ضرور کر لیں۔
