بوچاہاں: سرکاری راستے پر قبضے سے دیہاتی پریشان، سی او سے فوری کارروائی کی اپیل
چک عبدالرحمٰن گاؤں میں عوامی راستے کی بندش سے مکینوں کی مشکلات میں اضافہ
مظفرپور ضلع کے بوچاہاں بلاک کے تحت آنے والے گاؤں چک عبدالرحمٰن میں سرکاری زمین پر قبضے کا ایک سنگین معاملہ سامنے آیا ہے۔ گاؤں کے رہائشیوں نے الزام عائد کیا ہے کہ کچھ بااثر افراد نے برسوں پرانے عوامی راستے کو بند کر دیا ہے، جس کی وجہ سے مقامی لوگوں کا گھر سے باہر نکلنا محال ہو گیا ہے۔
کیا ہے پورا معاملہ؟
متاثرہ دیہاتیوں، جن میں محمد سبحان انصاری اور چندن چودھری شامل ہیں، نے بوچاہاں کے سرکل آفیسر (سی او) کو ایک باضابطہ شکایت درج کرائی ہے۔ شکایت میں کہا گیا ہے کہ گاؤں میں واقع ان کے آبائی مکانات کے سامنے بہار حکومت کی غیر مذروا زمین (کھاتہ نمبر 118، کھیسرا نمبر 211 اور 212) موجود ہے۔ یہ زمین برسوں سے گاؤں والوں کے لیے مرکزی سڑک تک پہنچنے کا واحد اور اہم راستہ رہی ہے۔
دیہاتیوں کا الزام ہے کہ گاؤں کے ہی گل محمد بیگ اور سبو بیگ نے اس سرکاری زمین پر غیر قانونی قبضہ کر لیا ہے۔ اس قبضے کے باعث راستہ مکمل طور پر بند ہو چکا ہے، جس سے نہ صرف بچوں اور بزرگوں کو آمدورفت میں دشواری ہو رہی ہے بلکہ ہنگامی حالات میں بھی لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
تنازعہ اور خوف کا ماحول
شکایت کنندگان کا کہنا ہے کہ جب بھی وہ اس غیر قانونی قبضے کے خلاف آواز اٹھاتے ہیں یا راستہ کھولنے کی بات کرتے ہیں، تو مخالف فریق جھگڑے پر آمادہ ہو جاتا ہے۔ اس رویے کی وجہ سے گاؤں میں خوف و ہراس کا ماحول پیدا ہو گیا ہے اور لوگ اپنی ہی زمین پر محصور ہو کر رہ گئے ہیں۔
انتظامیہ کا موقف
اس معاملے پر بوچاہاں کے سی او وشوجیت کمار نے واضح کیا ہے کہ شکایت موصول ہونے کے بعد کارروائی کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ جلد ہی ریونیو ملازمین اور آنچل امین کو موقع پر بھیجا جائے گا تاکہ زمین کی پیمائش کی جا سکے۔ سی او نے کہا کہ اگر پیمائش کے دوران سرکاری زمین پر قبضہ ثابت ہوتا ہے، تو بہار پبلک لینڈ انکروچمنٹ ایکٹ کے تحت سخت قانونی کارروائی کی جائے گی اور تجاوزات کو ہٹا کر راستہ بحال کیا جائے گا۔
مقامی لوگ اب انتظامیہ کی جانب سے فوری کارروائی کے منتظر ہیں تاکہ ان کی آمدورفت کا دیرینہ مسئلہ حل ہو سکے۔
دستبرداری: یہ خبر دستیاب مقامی ذرائع کی بنیاد پر مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے تیار کی گئی ہے۔ AI سے غلطیاں ممکن ہیں اور اس مواد کی صحت یا اصلیت کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ TheAinak صرف معلومات کو یکجا کرتا ہے اور اس کے مواد کا ذمہ دار نہیں ہے۔ قارئین سے گزارش ہے کہ کسی بھی معلومات پر بھروسہ کرنے یا اس پر عمل کرنے سے پہلے اس کی آزادانہ طور پر تصدیق ضرور کر لیں۔
